The news is by your side.

Advertisement

مشتاق احمد یوسفی، لاکھوں دلوں میں آج بھی زندہ

اردو کے عہد ساز مزاح نگار مشتاق احمد یوسفی کو ہم سے بچھڑے دو برس کا عرصہ تو بیت گیا مگر وہ اپنی تحاریر کے ذریعے لوگوں کے دلوں آج بھی زندہ ہیں۔

مشتاق احمد یوسفی 20 جون 2018 کو طویل علالت کے بعد 96 برس کی عمر میں انتقال کرگئے تھے، ان کا شمار اردو کے عظیم ترین مزاح نگاروں میں ہوتا تھا۔ یوسفی صاحب کے مداحوں کی تعداد لاکھوں میں ہے۔

مشتاق احمد یوسفی 4 ستمبر 1921 کو بھارتی ریاست راجستھان کے ضلع ٹونک میں پیدا ہوئے، انہوں نے ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد فلسفے میں ایم اے کرنے کا فیصلہ کیا اور آگرہ یونیورسٹی میں داخلہ لیا۔

یوسفی صاحب کا ایل ایل بی کا مرحلہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے طے ہوا، تقسیم ہند کے بعد کراچی آگئے، بینکاری کا پیشہ اختیار کیا اور اعلیٰ ترین عہدے تک پہنچے۔

مزید پڑھیں: غلط دلائل سے صحیح بات منوانے کی کوشش

یہ بھی پڑھیں: “چپل پہن کر بینک جائیں اور….”

مزاح‌ نگاری میں وہ اپنی مثال آپ تھے. ان کی پانچ کتابیں منظر عام پر آئیں، 1961 میں‌ چراغ تلے، 1969 خاکم بدہن، 1976 میں‌ زرگزشت، 1990 میں‌ آبِ گم، 2014ء شامِ شعرِ یاراں منظر عام پر آئیں، ان کی ہر کتاب نے فروخت کے ریکارڈ قائم کیے۔

حکومت پاکستان نے آپ کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے 1999 میں ستارۂ امتیاز اور ہلال امتیاز کے تمغوں سے نوازا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں