The news is by your side.

Advertisement

کراچی میں دہشت گردی کے واقعات، آئی جی سندھ کی چھٹی

کراچی: صوبہ سندھ میں دہشت گردی کے حالیہ واقعات کے بعد آئی جی سندھ مشتاق مہر کو عہدے سے ہٹادیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق آئی جی سندھ مشتاق مہر کو عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے ان کی جگہ گریڈ اکیس کے افضل کامران فضل کو آئی جی سندھ کا اضافی چارج دے دیا گیا ہے، ریٹائرمنٹ تک کامران فضل آئی جی سندھ رہیں گے جبکہ مشتاق مہر کو اسٹیبلشمنٹ ڈویژن رپورٹ کرنےکی ہدایت کی گئی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ کراچی میں حالیہ دہشتگردی کے واقعات مشتاق مہر کو عہدے کا باعث بنے، یہ بھی کہا جارہا ہے کہ وزیراعلی سندھ کی ہدایت پر مشتاق مہر کو عہدے سے ہٹایا گیا ہے

ذرائع کا کہنا ہے کہ محسن بٹ اور غلام نبی میمن نئے آئی جی سندھ کی دوڑ میں شامل ہوگئے۔

اس سے قبل مشتاق مہر کو جولائی دو ہزار پندرہ میں ایڈیشنل آئی جی غلام قادر تھیبو کی جگہ کراچی پولیس کا چیف تعینات کیا گیا تھا، بعد ازاں جولائی دو ہزار سترہ میں ان کا تبادلہ ٹریفک پولیس کے سربراہ کے طور پر کیا گیا تھا لیکن حکومت سندھ نے ایک مہینے بعد انہیں دوبارہ کراچی پولیس کا سربراہ تعینات کردیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: بولٹن مارکیٹ دھماکا:وزیراعظم کا وزیراعلیٰ سندھ سے رابطہ ،ہر ممکن مدد کی پیشکش

اگست دو ہزار اٹھارہ میں اس وقت کے آئی جی امجد جاوید سلیمی نے مشتاق مہر کا تبادلہ کیا تھا اور انہیں سینٹرل پولیس آفس (سی پی او) سندھ میں رپورٹ کرنے کی ہدایت کی تھی، بعد ازاں ڈاکٹر امیر احمد شیخ کو مشتاق مہر کی جگہ کراچی پولیس کا سربراہ بنادیا گیا تھا جو اس وقت سندھ میں اے آئی جی فنانس، لاجسٹکس اینڈ ویلفیئر کے عہدے پر کام کر رہے تھے۔

رواں سال فروری میں سندھ اور وفاق میں آئی جی کی تعیناتی کے حوالے سے مہینوں جاری رہنے والے تنازعے کے بعد انہیں کلیم امام کی جگہ آئی جی تعینات کیا گیا تھا۔ اس سے قبل مشتاق مہر پاکستان ریلوے پولیس میں انسپکٹر جنرل کی حیثیت سے خدمات سرانجام دے رہے تھے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں