The news is by your side.

وہ اِک مردِ مسلماں تھا!

26 جون 1950ء کو روزے کی حالت میں ابّا جان پر ٹنڈو آدم میں اچانک دل کا دورہ پڑا اور وہ بے ہوش ہوگئے۔

کسی عطائی نے نہ جانے کیا سمجھ کر کونین کا انجکشن لگا دیا اور وہ آن کی آن میں سارے بکھیڑوں، بندھنوں سے آزاد ہوگئے۔ جے پور ریاست کے ’’مقامی‘‘ مسلمانوں میں وہ پہلے گریجویٹ تھے۔ جے پور میونسپلٹی کے چیئرمین، اسٹیٹ مسلم لیگ اور دیگر مسلم تعلیمی اور ثقافتی اداروں کے صدر اور اسمبلی کی حزبِ اختلاف کے لیڈر رہ چکے تھے۔ اسمبلی ہی میں سقوطِ حیدرآباد پر پاکستان کی حمایت میں تقریر کرنے پر انہیں ہندوستان چھوڑنا پڑا۔ سادہ دل، بے ریا، پابندِ شرع، فقیر منش اور زبان کے کھرے تھے۔ دل کی بات زبان پر لانے میں انہیں ذرا بھی نہیں سوچنا پڑتا تھا۔

موروثی جائیداد سے وہ اپنے چھوٹے بھائی کے حق میں دستبردار ہوگئے تھے۔ راجستھان میں مسلمانوں کے دیرینہ و بے لوث خدمت گزار اور تحریکِ پاکستان کے سپاہی کی حیثیت سے سبھی انہیں جانتے پہچانتے تھے۔ انتقال کے بعد کسی اللہ کے بندے نے ان کی میّت ٹرک میں رکھ کر حیدرآباد پہنچا دی۔ غریبِ شہر کی لاش تین چار گھنٹے تک سڑک کے کنارے جون کی لُو میں اس انتظار میں بے گور و کفن پڑی رہی کہ اگر کوئی وارث ہے تو آئے اور مٹّی کے اس ڈھیر کو پہچان کر لے جائے۔ ان کے خدا نے ان کی بے کسی کی شرم رکھ لی۔

دوسرے دن غروبِ آفتاب سے ذرا دیر پہلے سیدھے حیدرآباد کے پھلیلی قبرستان پہنچے تو کافی انتظار کے بعد قبر آدھی بند کی جا چکی تھی۔ ان کا چہرہ پرسکون تھا۔ زردی نے ماتھے پر سجدے کے نشان کو زیادہ واضح کردیا تھا۔ ایک جھلک دیکھی۔ پھر اس کے بعد کچھ نظرنہ آیا۔

انتقال کے کچھ دن پہلے وہ چند گھنٹوں کے لیے کراچی آئے تو ٹاٹ کے ایک تیلے میں اپنا کھانا ساتھ لائے تھے کہ تنک حوصلہ بیٹے نے جو رزق تلاش کیا اس میں سود کی آمیزش تھی۔ زندگی میں جس نے ان کی کوئی خدمت نہ کی، اسے انہوں نے کندھا دینے کی سعادت سے بھی محروم رکھا۔ قبر پر نہ گلابوں کی چادر نہ چنبیلی کا ڈھیر۔ نہ گھر پر آہ و بکا کا شور۔ وہ تھے تو گھر اتنا بے سر و سامان نظر نہیں آتا تھا۔ ماں نے سَر پہ ہاتھ رکھا اور کلائی کو میلی چادر سے چھپا لیا۔

اب اپنے خاندان، بے روزگار بھائی اور اس کے بیوی بچے، بہن اور اس کے کنبے، اور ان کے گرد گھومنے والے طفیلی سیارے۔ ان سب کی خورد و نوش کا انتظام، بلکہ کہنا تو یہ چاہیے کہ فاقہ کروانے کی اخلاقی ذمہ داری ہم پر عائد ہوتی تھی۔ ایک دن یونہی خیال آیا تو مشقی سوال کے طور پر ہم نے اپنی تنخواہ کو کنبے کے لواحقین اور لواحقین کے متوسلین پر تقسیم کیا تو مقسوم 23 روپے پونے چار آنے نکلا۔ کسی طرح یقین نہ آیا کہ ایک آدمی 23 روپے میں بسر اوقات کر سکتا ہے۔ حساب میں یقیناً کوئی غلطی ہوگی۔ گھڑی کی زنجیر کے کمپیوٹر پر چیک کرکے دیکھا تو وہی جواب آیا۔

زندگی ہندسوں سے کہیں زیادہ لچک دار نکلی۔ انسان بڑا سخت جان ہے۔ ان اوصافِ حمیدہ اور خصائل ستودہ کی زیادہ تشریح و تشہیر یہاں اس لیے بھی غیر ضروری ہے کہ سارا اردو لٹریچر از دلّی دکنی تا ایں دم قناعت اور مفلسی کے فائدوں اور فضیلتوں سے بھرا پڑا ہے۔

(اردو کے ممتاز مزاح نگار مشتاق احمد یوسفی کے مضمون ” موصوف” سے انتخاب)

Comments

یہ بھی پڑھیں