برصغیر میں فن موسیقی کے چند بڑے نام اور فلمی صنعت کے لیے لازوال دھنیں تخلیق کرنے والے موسیقاروں میں نوشاد، او پی نیر، کھیم چند پرکاش، سی رام چندر، انیل بسواس، شنکر جے کشن، سلیل چودھری، لکشمی کانت پیارے لال کے ساتھ ایس ڈی برمن کا نام بھی ضرور لیا جائے گا۔
سچن دیو برمن کو فلمی دنیا میں ایس ڈی برمن کے نام سے لکھا اور پکارا جاتا رہا ہے۔ انھوں نے ہندوستانی فلموں کے لیے کئی گیتوں کی دھنیں تخلیق کیں جو لازوال ثابت ہوئے۔ 1975ء میں آج ہی کے روز ایس ڈی برمن چل بسے تھے۔ بطور موسیقار ایس ڈی برمن نے اپنے فن کا اظہار اس خوبی و کمال سے کیا کہ سبھی ان کے معترف نظر آئے۔ ابتدائی کام یابیوں کے بعد وہ وقت بھی آیا جب اس موسیقار کو بھارتی فلمی صنعت کا اہم ستون تسلیم کیا گیا۔ ایس ڈی برمن کی دھنوں میں کئی مقبول نغمات ایسے ہیں جو کسی فلم کی کام یابی کی بڑی وجہ قرار پائے۔
ایس ڈی برمن کا تعلق بنگال سے تھا اور وہ تری پوری کے شاہی خاندان کے رکن تھے۔ ایس ڈی برمن یکم اکتوبر 1906ء کو پیدا ہوئے۔ 1937ء میں انھوں نے بنگالی فلموں سے بطور موسیقار اپنا سفر شروع کیا اور مجموعی طور پر سو کے قریب ہندی اور بنگالی فلموں کے لیے موسیقی ترتیب دی۔ وہ ایک ورسٹائل موسیقار مشہور تھے۔ ایس ڈی برمن نے موسیقی کے ساتھ گلوکاری بھی کی اور کئی بنگالی لوک گیت ان کی آواز میں ریکارڈ ہوئے۔ ہندی سنیما کے لیے ان کی ترتیب دی ہوئی موسیقی پر لتا منگیشکر، محمد رفیع، گیتا دت، منّا ڈے، کشور کمار، آشا بھوسلے، شمشاد بیگم، مکیش اور طلعت محمود جیسے گلوکاروں نے اپنی آواز کا جادو جگایا اور خوب شہرت حاصل کی۔
میٹرک کا امتحان پاس کرنے کے بعد کومیلا کے وکٹوریہ کالج سے 1924ء میں ایس ڈی برمن نے بی اے کی سند لی، مگر موسیقی کے شوق نے ان کو آگے پڑھنے نہ دیا۔ وہ 1925ء سے 1930ء تک موسیقار کے سی ڈے سے موسیقی کی تربیت حاصل کرتے رہے۔ بعد میں بشما دیو، خلیفہ بادل خان اور استاد علاءُ الدین خان سے بھی راہ نمائی لی۔ ایس ڈی برمن نے 1920ء کی دہائی کے آخر میں کلکتہ ریڈیو اسٹیشن پر کچھ عرصہ گلوکاری بھی کی اور آہستہ آہستہ ان کی موسیقی مقبولیت حاصل کرنے لگی۔ یہ موسیقی بنگالی لوک دھنوں اور لائٹ ہندوستانی کلاسیکی موسیقی کا بڑا شان دار امتزاج تھی۔ ایس ڈی برمن کا ریکارڈ 1932ء میں پہلی مرتبہ ریلیز ہوا۔ اس کے بعد وہ گلوکار کی حیثیت سے پہچانے گئے اور کئی بنگالی گانے گائے۔ 1934 میں ایس ڈی برمن نے الہٰ آباد یونیورسٹی کی دعوت پر آل انڈیا میوزک کانفرنس میں شرکت کی جہاں انھوں نے بنگالی ٹھمری پیش کی۔ اس کانفرنس میں وجے لکشمی پنڈت اور کیرانہ گھرانے کے عبدالکریم خان بھی موجود تھے۔ اسی سال انھوں نے بنگال میوزک کانفرنس کلکتہ میں شرکت کی۔ اس کانفرنس کا افتتاح رابندر ناتھ ٹیگور نے کیا تھا۔ یہاں بھی انھوں نے بنگالی ٹھمری گائی اور گولڈ میڈل حاصل کیا۔ ایس ڈی برمن نے میرا داس گپتا سے شادی کی تھی اور ان کے بیٹے راہول دیو برمن (آر ڈی برمن) نے بھی موسیقار کی حیثیت سے کیریئر بنایا اور بہت شہرت اور مقبولیت پائی۔
ممبئی وہ نگری تھی جہاں بنگالی فلموں کا تجربہ لے کر پہنچنے والے ایس ڈی برمن کو تقسیمِ ہند کے موقع پر شہرت ملنے لگی تھی اور 1947ء کے بعد وہ اپنے کیریئر کی بلندیوں کو چھونے لگے اس زمانہ میں فلم ’’دو بھائی‘‘ کا ایک گیت بہت مقبول ہوا، جس کے بول تھے؛ ’’میرا سندر سپنا بیت گیا۔‘‘ اس کی موسیقی ایس ڈی برمن نے ترتیب دی تھی۔ اس کے بعد انھوں نے فلم ’’شبنم‘‘ کی موسیقی ترتیب دی۔ ان کے چند یادگار گیتوں میں کھویا کھویا چاند ہے، دیوانہ مستانہ ہوا دل، آج پھر جینے کی تمنا ہے شامل ہیں۔


