The news is by your side.

Advertisement

پاکستان کے نام وَر موسیقار فیروز نظامی کی برسی

فیروز نظامی پاکستان کے نام ور موسیقار تھے جن کی آج برسی ہے۔ فیروز نظامی 65 سال کی عمر میں 15 نومبر 1975 کو اس دنیا سے رخصت ہوگئے تھے۔

فیروز نظامی 1910 کو لاہور کے ایک فن کار گھرانے میں‌ پیدا ہوئے۔ اسی شہر کے اسلامیہ کالج سے گریجویشن کے دوران انھوں‌ نے موسیقی کے اسرار و رموز بھی سیکھے۔ اس کے لیے وہ اپنے ہی خاندان کے مشہور موسیقار استاد عبدالوحید خان کیرانوی کے زیرِ تربیت رہے اور خود بھی اس فن میں‌ استاد کا درجہ حاصل کیا۔

1936ء میں جب لاہور سے آل انڈیا ریڈیو نے نشریات کا آغاز کیا تو فیروز نظامی وہاں بطور پروڈیوسر ملازم ہوئے۔ انھو‌ں نے دہلی اور لکھنؤ کے ریڈیو اسٹیشنوں پر بھی اپنے فن کا جادو جگایا۔ تاہم تھوڑے عرصے بعد ریڈیو کی ملازمت چھوڑ کر بمبئی کی فلمی صنعت سے ناتا جوڑ لیا اور وہاں بھی خود کو منوانے میں‌ کام یاب رہے۔

بمبئی میں ان کی ابتدائی فلموں میں بڑی بات، امنگ، اس پار، شربتی آنکھیں اور نیک پروین شامل تھیں۔ فیروز نظامی کی وجہِ شہرت شوکت حسین رضوی کی فلم جگنو تھی جس میں دلیپ کمار اور نور جہاں نے مرکزی کردار ادا کیے تھے۔ اس فلم کی بدولت فیروز نظامی کے فن و کمال کا بہت چرچا ہوا۔

قیامِ پاکستان کے بعد فیروز نظامی لاہور لوٹ آئے تھے جہاں انھوں نے متعدد فلموں‌ کے لیے لازوال موسیقی ترتیب دی۔ ان کی فلموں میں سوہنی، انتخاب، راز، سولہ آنے، سوکن اور غلام شامل تھیں۔ نام ور گلوکار محمد رفیع کو فلمی صنعت میں متعارف کروانے کا سہرا بھی فیروز نظامی کے سَر ہے۔

فیروز نظامی نے سُر اور ساز، دھن اور آواز کی نزاکتوں، باریکیوں اور اس فن پر اپنے علم اور تجربات کو کتاب میں بھی محفوظ کیا جو ان کا ایک بڑا کارنامہ ہے۔ ایسے موسیقار بہت کم ہیں‌ جنھوں‌ نے اس فن کو اگلی نسل تک پہنچانے اور موسیقی و گائیکی کی تعلیم و تربیت کے لیے تحریر کا سہارا لیا۔ ان کی کتابوں‌ میں اسرارِ موسیقی، رموزِ موسیقی اور سرچشمۂ حیات سرِفہرست ہیں۔ فیروز نظامی کو لاہور میں میانی صاحب کے قبرستان میں سپردِ خاک کیا گیا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں