site
stats
عالمی خبریں

مسلمانوں پر پابندی کا بیان، ڈونلڈ ٹرمپ کی ویب سائٹ پر دوبارہ پوسٹ

واشنگٹن : نو منتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ویب سائٹ پر مسلمانوں کے داخلے سے متعلق بیان ہٹانے کے بعد دوبارہ پوسٹ کردیا گیا، ٹرمپ نے صدر منتخب ہوتے ہی بیان کو ویب سائٹ سے ہٹادیا تھا۔

تفصیلات کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مسلمانوں کے داخلے پر پابندی سے لگائے جانے والا بیان 8 نومبر کی صبح تک ٹرمپ کی ویب سائٹ پر موجود تھا، جسے ہی ٹرمپ منتخب ہوئے تو وہ بیان ویب سائٹ سے ہٹا دیا گیا لیکن سوشل میڈیا ویب سائٹ ٹوئٹر پر موجود تھا لیکن مسلمانوں کے داخلے سے متعلق ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان کی ویڈیو ایک بار پھر ویب سائٹ پر اپ لوڈ کر دی گئی۔

capture

میڈیا ٹیم نے کہا کہ فنی خرابی کے باعث ویڈیو کو ویب سائیٹ سے ہٹایا گیا تھا مگر اب اس فنی خرابی دور کرنے کے بعد دوبارہ اسے ویب سائٹ پر پوسٹ کردیا گیا ہے۔


مزید پڑھیں : مسلمانوں پرپابندی کا بیان، ڈونلڈ ٹرمپ کی ویب سائٹ سے غائب لیکن ٹوئٹس اب بھی موجود


دلچسپ بات یہ ہے کہ نئے منتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ویب سائٹ سے تو مسلمانوں پر امریکہ میں پابندی کا بیان ہٹادیا گیا تھا لیکن ڈونلڈ ٹرمپ اپنے ٹوئیٹر سے بیان ہٹانا بھول گئے۔

یاد رہے کہ نئے امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ نے دسمبر 2015 کو امریکا میں مسلمانوں کے داخلے پر پابندی لگانے اورامریکا میں رہائش پذیر مسلمانوں کی جانچ پڑتال سخت کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

ڈونلڈ ٹرمپ امریکہ میں موجود تمام مساجد کو بند کرنے اور سیکورٹی کی خاطر تمام مسلمانوں کا ڈیٹا بیس اکھٹا کرنے کا بھی بیان دے چکے ہیں۔

trump-2

واضح رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک ریلی سے خطاب کے دوران کہا تھا کہ مسلمانوں میں امریکا کے خلاف نفرت پائی جاتی ہے، جس کے باعث امریکا میں مزید حملے ہوسکتے ہیں، اس لیے جب تک اس نفرت کی وجوہات معلوم نہیں کرلی جاتیں اُس وقت تک امریکا میں مسلمانوں کے داخلے پر مکمل پابندی ہونی چاہیے، ہمارا ملک ان لوگوں کے ہولناک حملوں کا نشانہ نہیں بن سکتا، جو صرف جہاد پر یقین رکھتے ہیں۔

صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ صدر منتخب ہونے کی صورت میں فوری طور پر غیر قانونی تارکین وطن کو ملک بدر کردوں گا اور ملک میں ایگزٹ اور انٹری کے لیے ٹریکنگ سسٹم نافذ کیا جائے گا، نئے نظام کے تحت ویزا ختم ہونے کے بعد قیام کرنے والوں کی نشاندہی ہوسکے۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top