The news is by your side.

Advertisement

مسلمانوں پرپابندی کا بیان، ڈونلڈ ٹرمپ کی ویب سائٹ سے غائب لیکن ٹوئٹس اب بھی موجود

لندن : امریکی صدر منتخب ہوتے ہی ڈونلڈ ٹرمپ کی ویب سائٹ سے مسلمانوں پرپابندی سے متعلق بیان ہٹادیا گیا لیکن ڈونلڈ ٹرمپ کے ٹوئٹر پر وہ بیانات اب بھی موجود ہے۔

تفصیلات کے مطابق برطانوی اخبار کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مسلمانوں کے داخلے پر پابندی سے لگائے جانے والا بیان 8 نومبر کی صبح تک ٹرمپ کی ویب سائٹ پر موجود تھا، جسے ہی ٹرمپ منتخب ہوئے تو وہ بیان ویب سائٹ سے ہٹا دیا گیا۔

capture

نئے امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ نے دسمبر 2015 کو امریکا میں مسلمانوں کے داخلے پر پابندی لگانے اورامریکا میں رہائش پذیر مسلمانوں کی جانچ پڑتال سخت کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

مسلمانوں پر پابندی کے بیان کے کچھ ہی دیر بعد ٹرمپ نے ٹویٹ کرکے بیان کو ایک پالیسی بیان قرار دیا۔

trump-2

دلچسپ بات یہ ہے کہ نئے منتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ویب سائٹ سے تو مسلمانوں پر امریکہ میں پابندی کا بیان ہٹادیا گیا لیکن ڈونلڈ ٹرمپ اپنے ٹوئیٹر سے بیان ہٹانا بھول گئے۔

 

واضح رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک ریلی سے خطاب کے دوران کہا تھا کہ مسلمانوں میں امریکا کے خلاف نفرت پائی جاتی ہے، جس کے باعث امریکا میں مزید حملے ہوسکتے ہیں، اس لیے جب تک اس نفرت کی وجوہات معلوم نہیں کرلی جاتیں اُس وقت تک امریکا میں مسلمانوں کے داخلے پر مکمل پابندی ہونی چاہیے، ہمارا ملک ان لوگوں کے ہولناک حملوں کا نشانہ نہیں بن سکتا، جو صرف جہاد پر یقین رکھتے ہیں۔

صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ صدر منتخب ہونے کی صورت میں فوری طور پر غیر قانونی تارکین وطن کو ملک بدر کردوں گا اور ملک میں ایگزٹ اور انٹری کے لیے ٹریکنگ سسٹم نافذ کیا جائے گا، نئے نظام کے تحت ویزا ختم ہونے کے بعد قیام کرنے والوں کی نشاندہی ہوسکے۔


مزید پڑھیں : ڈونلڈٹرمپ نے امریکا میں مسلمانوں کی آمد پر پابندی کا مطالبہ کردیا


خیال رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کو مسلمانوں کے امریکا میں داخلے پرپابندی کے بیان پر دنیا بھرسے شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا، ڈونلڈ ٹرمپ پیرس حملوں کے بعد سے مسلمانوں کے امریکا میں داخلے پرپابندی کے بیانات دیتے رہے ہیں۔

یاد رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ ہیلری کلنٹن کوشکست دے کر گذشتہ روز امریکا کے صدرمنتخب ہوئے ہیں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں