جمعرات, مارچ 12, 2026
اشتہار

حاجی بیگم: جنگِ آزادی کی ایک گمنام مجاہدہ

اشتہار

حیرت انگیز

آبروئے ہند، شانِ ہند یا دیگر قابل فخر خواتین نے آج بھی ہماری تاریخ کے صفحات کو محض زینت ہی نہیں بخشی ہے بلکہ اس طرح منور کر رکھا ہے جس پر قوم و ملک کو ناز ہونا چاہیے۔ مملوکیہ سلاطین کے عہد میں جس طرح سے رضیہ سلطانہ کا نام تاریخ کے اوراق پر زریں الفاظ میں لکھے جانے کے لائق ہے، وہ اس کی صلاحیتوں، بہادری اور شجاعت کے علاوہ سیاسی تدبر، بصیرت اور کام یاب حکمرانی کا ہی نتیجہ ہے۔ اس مایہ ناز دخترِ ہند نے تو اپنے عسکری کارناموں کے بھی تاریخ پر ایسے نقوش ثبت کیے جو ناقابلِ فراموش ہیں۔

اس کے علاوہ اگر ہم بیگماتِ بھوپال، تذکرۂ خواتینِ دکن، بیگماتِ بنگال اور بیگماتِ اودھ جیسی دیگر تصانیف کا گہرائی سے مطالعہ کریں تو پتہ نہیں کتنی تاریخ ساز خواتین سے ہم متعارف ہو سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر دکن میں نظام شاہی دور کی چاند بی بی کو ہو سکتا ہے کہ ہم نے تاریکیوں کے غار میں دفن کر دیا ہو، لیکن اس جری خاتون کی سرزمین پر حساس اور علم پرور لوگوں کو اس کا چاند جیسا نورانی چہرہ آج بھی اپنی روشنی بکھیرتا ہوا نظر آتا ہے اور شبِ تاریک ہو یا چاندنی رات احمد نگر کے قلعے میں اس کے گھوڑے کی ٹاپیں آج بھی فضا کی خاموشی کو منتشر اور مرتعش کر دیتی ہیں جس پر سوار ہو کر چاند بی بی قلعہ کی حفاظت کے لیے انتظامات کا معائنہ کیا کرتی تھی۔ جب کہ مقابلہ جلالِ اکبری سے تھا جس کے سامنے تقریبا سارا ہندوستان سرنگوں ہو چکا تھا۔ لہٰذا اس بلند عزائم کی خاتون کی بہادری اور شجاعت کا اندازہ قارئین بخوبی لگا سکتے ہیں۔

اسی طرح کی تمام خواتین کے درمیان جنگِ آزادی 1857ء کے ابواب میں ایک اور ناقابلِ فراموش نام بیگم حضرت محل کا بھی لیا جاتا ہے جن کو مؤرخین نے "جون آف آرک” کے نام سے بھی نوازا ہے۔ بیگم حضرت محل نے ہماری جنگِ آزادی کی تاریخ پر ایسے نقوش چھوڑے ہیں کہ ان کی حیات اور کارناموں پر ایک ضخیم کتاب ترتیب دی جاسکتی ہے۔ یہ بیگم حضرت محل ہی تھیں جن کی ہمت اور استقلال نے علاقۂ اودھ کو کوہِ آتش فشاں بنا دیا لیکن افسوس کہ اس جانباز ملکۂ اودھ کا اپنا انجام المناک رہا کیوں کہ کٹھمنڈو ( نیپال ) میں جلا وطنی کے دوران غریب الوطنی کے عالم میں ان کو موت سے ہمکنار ہونا پڑا۔

جنگِ آزادی 1857ء میں جامِ شہادت نوش کرنے والی یا قربانی دینے والی مادرِ ہند کی دیگر مایہ ناز بیٹیوں میں صفِ اوّل کے نام رانی لکشمی بائی، اودا دیوی، دہلی کی سبز پوش خاتون، کانپور کی عزیرن رقاصہ، جھنکاری دیوی، اصغری بیگم (مظفر نگر یو پی)، حبیبہ بیگم (مظفر نگر)، رحیمی خاتون (مظفر نگر) تاج آرا بیگم (اودھ) اور نازنین (دہلی) یا بیگم حضرت محل کے ہی نہیں ہیں بلکہ بے شمار ایسی خواتین بھی ہیں جو ہماری سرد مہری اور فراموشی کی وجہ سے گمنامی کا شکار ہوگئیں۔ 1857ء کے سلسلہ ہی میں ذیل میں چند ایسی خواتین کے نام درج ہیں جنھوں نے آزادی کے لیے اپنی قربانیاں دے دیں لیکن انھیں یاد کرنے والا کوئی نہیں۔

1- رانی چوہان ( انوپ شہر)
2- رقاصہ فرحت جہاں (دہلی )
3- مہارانی تپسوی ( اصلی نام سونندا ) بھتیجی رانی لکشمی بائی
4- اونتیکا بالی لودھی ( رام گڑھ، ایم پی)
5- ایشور کماری (ریاست تلسی پور، ضلع گورکھپور یو۔ پی)
6- مینا کماری یا بائی ( صاحبزادی نانا صاحب)
7- ممتاز زمانی بیگم ( شریکِ حیات شہزاده فیروز بخت )
8- جانوں کی رانی تیج بائی وغیرہ وغیرہم

جنگِ آزادی میں بہار کی خواتین نے جس عزم اور حوصلہ سے حصہ لیا اور آزادیٔ ہند کے مقصد کو حاصل کیا، اس سلسلے میں کتابیں اور مضامین شائع ہوتے رہے ہیں لیکن زیادہ تر تاریخ نویسوں نے بہار کی مجاہد خواتین کے ساتھ انصاف نہیں کیا، گھوم پھر کر بس چند نام ہیں، جن کا ذکر ہوتا ہے۔ مسلم خواتین کے سلسلے میں تو گہری خاموشی ہی نظر آتی ہے۔

حاجی بیگم بہار کی تحریکِ آزادی ہند میں ایک ایسا نام ہے جن کے متعلق مشہور کالم نویس آلوک مدوپ نے پٹنہ کے مشہور انگریزی روزنامہ "انڈین نیشن“ میں لکھا تھا کہ اگر ہندوستان کی تاریخ دوبارہ لکھی جائے تو یہ خاتون دوسری جھانسی کی رانی ثابت ہوگی۔

حاجی بیگم قدرت اللہ خاں کی دختر نیک اختر تھیں۔ ان کی پیدائش سہسرام ہی میں 1781ء میں ہوئی اور شادی چھپرہ (ضلع سارن صوبۂ بہار ) کے شہریار خاں سے ہوئی جو بد قسمتی سے کچھ ہی عرصہ کے بعد انتقال کر گئے۔ قدرت اللہ خاں کو ورثہ میں کافی جاگیر ملی تھی جس میں (52) مواضعات شامل تھے۔ حاجی بیگم کے دو بھائی تھے جن کے نام تھے جمال اللہ خان اور سرفراز اللہ خاں جو بوقتِ رحلتِ قدرت اللہ خاں نابالغ تھے۔ اس لیے حاجی بیگم کو مجبوراً میکے واپس آکر سہسرام میں سکونت اختیار کرنی پڑی تاکہ جاگیر کا کام اور انتظام طریقے سے ہو سکے۔

حاجی بیگم بیوہ ضرور ہو چکی تھیں، لیکن یہ حقیقت ان کی دلیری اور بہادری پر حاوی نہیں ہو پائی تھی۔ وہ نہایت باشعور، با علم اور انتہائی تھی اور فیاض واقع ہوئی تھیں۔ انھوں نے فن سپہ گری میں بھی بخوبی مہارت حاصل کی تھی۔ وہ برقعہ پوش ہونے کے باوجود گھوڑے پر سوار ہو کر اپنی حدودِ سلطنت میں گھوم گھوم کر جاگیر کے کاموں کی نگرانی اور معائنہ کیا کرتی تھیں۔ رعایا کی فریادیں اور رودادیں سماعت کرتیں اور باضابطہ طور پر اجلاس منعقد کر کے مقدمات کے فیصلے کیا کرتی تھیں۔ حاجی بیگم ایک رعایا پرور خاتون تھیں لہٰذا اپنے علاقے میں بہت زیادہ ہر دلعزیز تھیں۔ لیکن یہ بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ وہ جنگِ آزادی 1857ء کی ایک ناقابلِ فراموش مسلم مجاہدہ بھی تھیں۔

(وسیم احمد سعید کی کتاب اوراقِ پارینہ سے اقتباس)

+ posts

اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں