The news is by your side.

Advertisement

’خود کو ہندو کہتے شرم آتی ہے‘، لڑکی مسکان کی حمایت میں بول پڑی

نئی دہلی: بھارت میں ’اللہ اکبر‘ کا نعرہ لگانے والی کالج کی طالبہ مسکان کی حمایت میں ہندو لڑکی بھی بول پڑی۔

اے آر وائی نیوز کے مطابق بھارت میں کالج کی طالبہ حجاب کے معاملے پر اللہ اکبر کے نعرے لگانے کی پوری دنیا میں وائرہ ہوگئی تھی اب مسکان کی حمایت میں بھارتی ہندو لڑکی بھی کھل کر بول پڑی۔

شالنی نامی لڑکی کا کہنا ہے کہ اسے خود کو ہندو کہتے شرم آتی ہے، ایک نہتی لڑکی کو اتنے سارے نام نہاد رام بھگتوں نے گھیر لیا۔

شالنی نے کہا کہ وہ حجاب کرتی ہے تو تمہیں کیا پریشانی ہے، تم جے شری رام کے نعرے لگاسکتے ہو تو وہ مسلمان اللہ اکبر تک نہیں کہہ سکتی۔

بھارتی ناظم الامور کی دفتر خارجہ طلبی

علاوہ ازیں بھارتی ناظم الامور کو وزارت خارجہ طلب کرلیا گیا، ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ حجاب پہننے والی طلبا کو ہراساں کرنے پر پاکستان نے شدید احتجاج کیا ہے۔

پاکستان نے کرناٹک میں مسلم طالبات کے حجاب پہننے پر پابندی کی شدید مذمت کی ہے ناظم الامور کو حکومت پاکستان کی شدید تشویش اور مذمت سے آگاہ کیا۔

بھارت: نہتی لڑکی کے اللہ اکبر کے نعروں نے انتہا پسند ہندوؤں کے دل دہلا دیے (ویڈیو)

واضح رہے کہ بھارتی ریاست کرناٹک میں کالج میں طالبات کے حجاب پہننے پر پابندی عائد کی گئی تو جس پر ایک مسلم لڑکی مسکان حجاب پہنے موٹر سائیکل پر کالج پہنچی اور ہندو انتہا پسندوں کے سامنے اللہ اکبر کے نعرے لگا دیے تھے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں