The news is by your side.

امریکا میں 3 مسلمانوں کو قتل کرنے والا گرفتار

واشنگٹن: امریکی ریاست نیو میکسیکو میں 10 ماہ کے عرصے میں 3 مسلمانوں کو قتل کرنے والے ملزم کو گرفتار کرلیا گیا۔

امریکی میڈیا کے مطابق امریکی ریاست نیو میکسیکو میں ایک مشتبہ شخص کو 10 ماہ کے عرصے میں ہونے والے مسلمانوں کے قتل کے 3 الزامات کا سامنا ہے۔

مقامی پولیس کا کہنا ہے کہ 51 سالہ محمد سید پر پیر کو 25 سالہ نعیم حسین کے قتل میں ملوث ہونے کے شبے میں فرسٹ ڈگری قتل کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

سید پر پہلے ہی یکم اگست کو 27 سالہ محمد افضل حسین اور 26 جولائی کو 41 سالہ آفتاب حسین کے قتل میں ملوث ہونے کے الزام میں فرد جرم عائد کی گئی تھی۔

پولیس نے بتایا کہ سید 7 نومبر 2021 کو 62 سالہ محمد امیر احمدی کے قتل کا بھی مرکزی مشتبہ شخص ہے جس کے حوالے سے تحقیقات جاری ہیں۔

البوکر کے پولیس کے سربراہ ہیرالڈ میڈینا نے بتایا کہ ہمارے خفیہ اہلکار استغاثہ کے ساتھ مل کر کام کرتے رہتے ہیں تاکہ تمام متاثرین کو اس المناک کیس میں انصاف ملے۔

انہوں نے تصدیق کی کہ سید پر اب باضابطہ طور پر چار ہلاکتوں میں سے 3 میں فرسٹ ڈگری قتل کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

پولیس کے مطابق سید نے مبینہ طور پر نعیم حسین کو اس وقت گولی مار دی جب وہ پارکنگ میں اپنی گاڑی کی ڈرائیور سیٹ پر بیٹھا تھا، حسین کے دوستوں نے افسران کو بتایا کہ وہ اس دن کے اوائل میں آفتاب حسین اور محمد افضل حسین کے جنازوں میں شریک ہوئے تھے۔

شاہین سید نے نعیم حسین کا پارکنگ ایریا میں تعاقب کیا تھا جہاں انہیں گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا۔

پولیس ریکارڈ اور امتیاز حسین کے مطابق سٹی پلاننگ ڈائریکٹر افضال حسین کو 15 سے 20 سیکنڈ میں 15 بار گولی مارنے کے لیے ایک پستول اور رائفل کا استعمال کیا گیا۔ مقتول نعیم حسین اور افضال حسین کا ایک دوسرے سے کوئی تعلق نہیں تھا۔

امریکی ریاست نیو میکسیکو میں 9 اگست منگل کے روز 4 مسلمانوں کے قتل کے الزام میں محمد سید کو گرفتار کیا گیا تھا، پولیس حکام کے مطابق 51 سالہ مشتبہ شخص کا تعلق افغانستان سے ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں