The news is by your side.

Advertisement

بھارت میں ہندو لڑکی سے بات کرنے پر مسلمان لڑکے پر بہیمانہ تشدد

کرناٹک: بھارت میں ایک مسلم نوجوان کو ہندو لڑکی سے بات کرنے کی پاداش میں برہنہ کرکے تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔

تفصیلات کے مطابق بھارتی ریاست کرناٹک کے علاقے منگلور میں ایک مسلمان کو صرف اس لئے تشدد کا نشانہ بنایا گیا کہ اس نے ایک ہندو لڑکی سے بات کرنے کی غلطی کی تھی۔ نوجوان کو مجمع نے ایک کھمبے سے باندھ کر اسے برہنہ کردیا، کوڑے لگائے اور بے پناہ تشدد کا نشانہ بنایا۔

پولیس جائے وقعہ پر اس وقت پہنچی جب نوجوان کے ساتھ ہونے والے اس بہیمانہ تشدد کی ویڈیو بھارتی ٹی وی چینلز پر براہ راست نشر ہونے لگی۔ پولیس نے بجرنگ دل سے تعلق رکھنے والے 14 افراد کو نوجوان پر تشدد کے الزام میں گرفتار کرلیا ہے۔

متاثرہ شخص ایک اسٹور میں مینجر کی حیثیت سے کام کرتا ہے اور ہندو لڑکی اسی اسٹور میں سیلز گرل ہے۔ متاثرہ شخص نے پولیس کو بیان دیا ہے کہ لڑکی نے اس سے 2 ہزار روپے ادھار مانگے تھے، وہ اور لڑکی نزدیکی اے ٹی ایم کی جانب جارہے تھے کہ 30 کے قریب مسلح افراد نے اس پر حملہ کردیا جن کے پاس لاٹھیاں اور چاقو بھی تھے۔

واقعے کے دوران ہندو لڑکی کو بھی مسلمان لڑکے کی حمایت کرنے پر بارہا طمانچے مارے گئے۔

واضح رہے کہ منگلور میں مذہبی انتہا پسندی کے واقعات بڑھتے جارہے ہیں۔ وہاں بجرنگ دل، شری راما سین، ہندو جگارانا ودیک اور ایک اسلامی گروہ ان واقعات میں پیش پیش رہتے ہیں اور وقتاً فوقتاً ایک دوسرے پرحملے کرتے ہیں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں