اسلامی دنیا طارق بن زیاد کو ایک عظیم سپاہ سالار کے طور پر جانتی ہے جس نے اپنے لشکر کی قیادت کی اور ہسپانیہ کے بادشاہ کو شکست دے کر یورپ میں اسلامی سلطنت کی بنیاد رکھی تھی۔ یہ اسلامی تاریخ کا وہ اہم باب ہے جس نے خطّے کی سیاست اور اس کی ثقافت پر گہرے اثرات مرتب کیے اور فتح کے بعد صدیوں تک مسلمانوں نے وہاں حکومت کی۔
شاعرِ مشرق علاّمہ محمد اقبال نے بھی اسپین میں اپنے قیام کے بعد ہسپانیہ اور مسجدِ قرطبہ پر نظمیں لکھیں جو بہت مشہور ہیں اور ان میں یورپ میں مسلمانوں کے تاب ناک ماضی کی جھلک اور اسلامی دور کے نقش دیکھے جاسکتے ہیں۔ جزیرہ نما ہسپانیہ میں مسلمانوں کی آٹھ سو سالہ تاریخ، اسلامی تاریخ کا نہایت مہتم بالشّان باب بھی ہے اور عبرت کا نہایت اندوہ ناک مرقع بھی۔ یہ ملک ولید اوّل کے عہدِ حکومت میں طارق اور اس کے دلیر ساتھی موسیٰ کے ہاتھوں مفتوح ہوا ہوا تھا اور خلافتِ دمشق کا ایک صوبہ قرار پایا تھا۔ ہم یہاں کتاب تاریخِ کے عظیم سپاہ سالار اور فتوحات سے ایک پارہ نقل کررہے ہیں۔ اسی روایت کو ہندوستان میں کئی مصنّفین نے کم و بیش اسی طرح بیان کیا ہے۔
26 جولائی 711ء (3 شوال 92ھ) کو ہسپانیہ میں دریائے برباط (وادیٔ لطہ، وادیٔ برباط کا حصّہ) کے کنارے جو لڑائی ہوئی اس میں ایک طرف گیارہ بارہ ہزار فوج تھی جس کا سالار طارق بن زیاد تھا، دوسری طرف ہسپانیہ کا بادشادہ راڈرک تھا جس کی فوج دگنی سے کم نہ تھی۔ لیکن راڈرک نے شکست کھائی اور مارا گیا۔
ہسپانیہ مسلمانوں کے قبصے میں آگیا جہاں انہوں نے آٹھ سو سال تک حکومت کی، یہی حکومت تھی جس نے یورپ میں صدیوں تک علم حکمت اور تہذیب و دانش کا چراغ روشن رکھا اسی چراغ کی لو سے یورپ کے اندھیرے میں اُجالے کا سامان ہوا۔
مسلمان شمالی افریقہ پر قابض ہو چکے تھے اور ہسپانیہ ان کے سامنے تھا۔ وہاں ایک طرف تاج و تخت کے جھگڑے شروع تھے۔ دوسری طرف راڈرک کے ظلم و جور نے عوام کو پریشان کر رکھا تھا۔ وہ لوگ بار بار مسلمانوں سے امداد کی درخواستیں کر رہے تھے۔ آخر شمالی افریقہ کے بادشاہ نے طارق بن زیاد کو بارہ ہزار فوج دے کر ہسپانیہ پر حملہ کرنے کہ لیے بھیجا۔ اس کے پاس صرف چند جہاز تھے۔ جب پوری سپاہ اس مقام پر پہنچ گئی جو بعد میں جبل طارق کے نام سے مشہور ہوا، تو مشہور روایت ہے کہ اس نے جہازوں کو نذرِ آتش کرنے کا حکم دے دیا۔
جب پوچھا گیا کہ ایسا کیوں کیا اور شریعت میں ترکِ اسباب کب جائز ہے! تو طارق نے تلوار کے قبصے کو ہاتھ پر رکھتے ہوئے کہا کہ ہر ملک ہمارا ہے، اس لیے کہ ہمارے خدا کا ہے۔
برباط کے کنارے دو دن فریقین لڑتے رہے مگر کوئی فیصلہ نہ ہوا۔ تیسرے دن نماز کے بعد طارق نے ایک ولولہ انگیز تقریر کی اور کہا ‘‘بھائیو! تم بھاگ کر کہاں جا سکتے ہو؟ اپنی حالت کا اندازہ کرو، طاقتور دشمن سے مقابلہ ہے جو طوفانی سمندر کی لہروں کی طرح تمہیں گھیر سکتا ہے، اس کے پاس ہر قسم کا سامانِ جنگ موجود ہے، کھانے پینے کی چیزیں بھی کم نہیں، تمہارے پاس تلواروں اور نیزوں کے سوا کیا ہے؟ لیکن یقین رکھو فتح ہماری ہے۔ یہ لوگ ہماری تلواروں کی کاٹ کے سامنے ٹھہر نہیں سکتے، خدا کہ حکم پر چلو گے اور دین کا جھنڈا اس سرزمین میں گاڑ دو گے تو خدا کی بارگاہ سے تمہیں بہت بڑا انعام ملے گا۔
پھر خود سب سے پہلے آگے بڑھ کر حملہ کیا اور مشہور ہے کہ اسی روز جنگ کا فیصلہ ہوگیا۔ تھوڑی ہی مدت میں پورا ہسپانیہ مسلمانوں کے زیرِ نگین آ گیا۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


