ہندوستان کی تاریخ کے مسلمان حکم رانوں میں سلطان غیاث الدّین بلبن کا نام اس کے رعب و دبدبہ اور جاہ جلال کے ساتھ ایک بہترین منتظم کے طور پر بھی لیا جاتا ہے اس کا دورِ حکومت 1266ء سے 1286ء تک رہا اور اسے دہلی میں خاندانِ غلاماں کے سلطان کی حیثیت سے پہچانا گیا۔
مؤرخین کے مطابق غیاث الدّین ایک زاہدِ بے ریا، انصاف پسند حکم راں اور ایسا سلطان تھا جو طریقِ جہاں بانی سے بخوبی واقف تھا۔ ضیاء الدین برنی کا بیان ہے کہ بلبن نے اپنی حکومت کے بیس سال کے دور میں شاہی وقار، شاہی آداب اور شاہی دبدبہ کو اتنا بلند کردیا تھا کہ اس سے زیادہ بلند نہ ہو سکا، وہ کہا کرتا تھا کہ جو بادشاہ دربار کی آرائش، شاہانہ سواری کے مراسم اور سلطنت کے آداب کا لحاظ نہیں کرتا، اس کا رعب و داب رعیت کے دلوں میں قائم نہیں رہتا اور نہ دیکھنے والوں پر اس کی حشمت و جلالت کا کچھ اثر ہوتا ہے، ایسے بادشاہ کے دشمن دلیر ہو جاتے ہیں اور اس کی حکومت میں خلل پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
سلطان بلبن کے خوفِ خدا اور انصاف پسندی کے چند مشہور واقعات میں سے ایک یہ ہے کہ ایک روز تیر اندازی کی مشق ہو رہی تھی۔ سلطان نے بھی نشانہ باندھا، ناگاہ ایک تیر تربیتی احاطے سے باہر سے گزرتے ہوئے کسی بچّے کو لگا جو موقع پر ہی جاں بحق ہو گیا۔ سلطان کو اس حادثے کی خبر نہ ہوئی، لیکن بچّے کی ماں قاضیِ شہر کے پاس چلی گئی اور ازروئے قانونِ شریعت داد رسی چاہی۔ قاضی نے سلطان کو طلب کرلیا اور ایک دُرہ مسندِ قضا کے نیچے چھپا کر رکھ دیا۔ سلطان نے حکم کی تعمیل کی اور ایک چھوٹی سی تلوار بغل میں چھپا کر قاضی کے سامنے پیش ہوگیا۔ سلطان غیاث الدین پر قتل کا جرم ثابت ہو گیا اور اسے قصاص میں قتل کرنے کا حکم جاری ہوتا ہے۔ یہ منظر دیدنی تھا، سلطان ایک لاچار ملزم کی حیثیت سے کھڑا تھا۔ مستغثہ ممتا کی ٹیس کی وجہ سے سلطان پر خشمگیں نظریں گاڑی ہوئی تھی۔ سب کو لگا کہ سلطان اب تھوڑی دیر کا مہمان ہے اور جرم کی پاداش میں اس پر حدِ شرعی لاگو ہونے والی ہے۔ یکایک خاتون نے خون بہا کے عوض سلطان کو موت کے بے رحم شکنجے سے چھڑانے کا فیصلہ کیا۔
قاضی صاحب کو اطلاع دی گئی اور مقدمے سے فراغت کے بعد قاضی نے سلطان کی تعظیم کی اور اسے مسند پر بٹھایا۔ سلطان نے بغل میں چھپائی ہوئی تلوار نکالی اور بولا، ’’قاضی صاحب اگر آپ قانونِ شریعت کی سرمو خلاف ورزی کرتے تو اس تلوار سے آپ کی گردن اڑا دیتا۔‘‘ قاضی سراج الدین نے مسند کے نیچے چھپایا ہوا دُرہ نکالا اور فرمایا، ’’اے سلطان! اگر آج آپ شریعت کی حد سے ذرا بھی تجاوز کرتے تو اس دُرے سے آپ کی کھال اتار دیتا، آج ہم دونوں کے امتحان کا دن تھا۔‘‘
غیاث الدّین بلبن کا سنِ پیدائش 1200ء لکھا ہے۔ محققین کے مطابق 13 جنوری 1287ء کو اس کا انتقال ہوگیا تھا۔ وہ سلطنتِ دہلی پر خاندانِ غلاماں کا آٹھواں سلطان تھا۔ تاریخ کی کتب میں اسے ایک ترک باشندہ لکھا گیا ہے جو بطور غلام ہندوستان لایا گیا اور بازار سے ہوکر کسی طرح سلطان التتمش تک پہنچا تھا۔ التتمش نے اسے مقربین میں شامل کیا اور بلبن نے بعد میں اپنی ذہانت، سیاسی و عسکری امور میں اپنی قابلیت کی بدولت دہلی کا تحت سنبھالا۔ اس نے اپنے دور میں فتوحات سے زیادہ اپنے پیش رو کے زیرِ نگیں علاقوں پر مکمل کنٹرول رکھا اور امرا اور سرداروں کا زور توڑ کر مرکزی حکومت کو مضبوط کیا۔ بغاوتوں کو سختی سے کچل کر ملک میں امن و امان قائم کیا اور سلطنت کو منگولوں کے حملے سے بچایا۔
بلبن کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ بڑا مدبّر اور علما و فضلا کا قدر دان تھا۔ یہی نہیں بلکہ وہ رعایا کے لیے بڑا فیاض اور نرم خو بھی تھا۔ غیاث الدین بلبن کا مقبرہ مہرولی، نئی دہلی، ہندوستان میں ہے جو اسلامی فنِ تعمیر میں تاریخی اہمیت کی حامل عمارت ہے۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


