site
stats
خواتین

امریکی مسلمان باکسر کو حجاب کے ساتھ کھیلنے کی اجازت

واشنگٹن: حجاب کے ساتھ باکسنگ میں حصہ لینے کی ممانعت کے خلاف امریکی نوعمر مسلمان باکسر عمایہ ظفر کی جدوجہد بالآخر رنگ لے آئی، اور امریکی باکسنگ ایسوسی ایشن نے اسے باحجاب ہو کر کھیل میں حصہ لینے کی اجازت دے دی۔

امریکی ریاست منیسوٹا کی 16 سالہ عمایہ کے لیے یہ جدوجہد اتنی آسان نہیں تھی۔ وہ اپنے حریف کے ساتھ ساتھ ان قوانین سے بھی متصادم تھی، جو اسے حجاب کے ساتھ اس کھیل میں حصہ لینے سے روکتے ہیں۔

عمایہ اپنی مذہبی اقدار اور اپنے جنون کو ساتھ لے کر چلنا چاہتی تھی۔

لیکن اس کی راہ میں اس کے پسندیدہ کھیل باکسنگ کے وہ قوانین حائل تھے جن کی رو سے وہ مکمل ڈھکا ہوا لباس اور سر پر حجاب پہن کر اس کھیل میں حصہ نہیں لے سکتی تھی۔

ہوش سنبھالنے کے بعد سے اس کھیل کی پریکٹس کرنے والی عمایہ گزشتہ برس ایک باکسنگ میچ میں حصہ لینے کے لیے فلوریڈا گئی۔

لیکن وہاں اسے بتایا گیا کہ حجاب، مکمل بازوؤں والی جرسی اور لیگنگ کے ساتھ اسے مقابلہ میں حصہ لینے کی اجازت نہیں ہے۔

عمایہ دل برداشتہ لوٹ آئی، لیکن اس نے حوصلہ نہیں ہارا۔ وہ کہتی تھی، ’میں اپنے شوق کے لیے مذہب، اور مذہب کے لیے شوق کو کیوں قربان کروں‘؟

ایک نئے حوصلے سے عمایہ نے پھر سے باکسنگ کی پریکٹس شروع کردی۔ اس کے ساتھ ساتھ عمایہ اور اس کے خاندان نے کونسل آف امریکن اسلامک ریلیشنز سے رابطہ کیا اور اس سلسلے میں ان سے مدد کی درخواست کی۔

کونسل نے امریکی باکسنگ ایسوسی ایشن سے کھیل کے قوانین میں مذہبی چھوٹ کے حوالے سے شق شامل کرنے کے معاملے پر گفت و شنید شروع کردی۔

بالآخر کونسل کی کوششیں، اور عمایہ کی سچی لگن رنگ لے آئی اور چند روز قبل باکسنگ ایسوسی ایشن نے عمایہ کو اجازت دے دی کہ وہ اپنے اسلامی اقدار کے مطابق لباس پہن کر کھیل میں حصہ لے سکتی ہے۔

فیصلے کے بعد ایسوسی ایشن کے ترجمان نے کہا کہ گو کہ ایک مسلمان کی وجہ سے انہیں اپنے قوانین میں ترامیم کرنی پڑی۔ لیکن انہیں خوشی ہے کہ ان ترامیم کی وجہ سے یہ کھیل مذہبی و ثقافتی ہم آہنگی کو فروغ دینے کا سبب بنے گا۔

مزید پڑھیں: افغان خواتین فٹبال ٹیم کی کپتان ۔ خالدہ پوپل

عمایہ کی وجہ سے اب نہ صرف مسلمان بلکہ دیگر مذاہب کی لڑکیاں بھی مکمل لباس کے ساتھ اس کھیل میں حصہ لے سکتی ہیں۔

اس کے والد محمد ظفر بھی بیٹی کی کامیابی پر بے حد خوش ہیں۔ وہ پرامید ہیں کہ مستقبل میں عمایہ ایک مسلمان کی حیثیت سے امریکا کے لیے روشن مثال ثابت ہوگی۔

عمایہ کو اپنے پہلے میچ میں تو شکست کا سامنا کرنا پڑا، تاہم اس نے اپنے حقوق کے لیے جو جنگ لڑی، اس میں وہ فاتح ٹہری۔

عمایہ اب 2020 کے ٹوکیو اولمپکس میں حصہ لینے کی تیاریاں کر رہی ہے۔ اس کا عزم پہاڑوں سے بھی بلند ہے اور اسے یقین ہے کہ وہ خود کو امریکا کی بہترین پہچان بنانے میں کامیاب رہے گی۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top