The news is by your side.

Advertisement

ریاست آسام میں‌ مسلمان نوجوانوں پر ہندو انتہا پسندوں کا تشدد

نئی دہلی : بھارت میں مسلمانوں کو تشدد کا نشانہ بنانے اور سکھوں سے متعلق سوشل میڈیا پر گمراہ کن اورجھوٹی خبریں پھیلانےوالا آرایس ایس کا کارندہ رنگے ہاتھوں پکڑا گیا۔

تفصیلات کے مطابق بھارت میں ہندو انتہاپسند دہشتگردوں کے مسلمانوں پر مظالم جاری ہے، ریاست آسام میں ہندو مذہب کا نعرہ لگانے سے انکار پرمزید تین مسلمان نوجوانوں پربہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ دو موٹر سائیکلوں پر سوار چار ہندو انتہا پسند ریاست آسام کے ایک میڈیکل اسٹور پر آئےاور ایک مسلمان نوجوان رقیب الحق کو تشدد کا نشانہ بنایا بعد ازاں یہ چاروں ہندو انتہا پسند دوسرے میڈیکل اسٹور پر گئےاور وہاں موجود مزید دو مسلمانوں کو تشدد کا نشانہ بنایا۔

مقامی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ ہندو انتہا پسنوں نے متاثرہ مسلمان نوجوانوں کو ہندو مذہبی نعرے لگانے پر بھی مجبور کیا، دوسری جانب سکھوں سے متعلق سوشل میڈیا پر گمراہ کن اورجھوٹی خبریں پھیلانےوالا آرایس ایس کا کارندہ رنگے ہاتھوں پکڑا گیا۔

یاد رہے کہ گزشتہ ماہ جون میں ریاست جھاڑکھنڈ ضلع کھرسانواں میں ہندوانتہاپسندوں کے ہجوم نے مسلمان نوجوان شمس تبریز انصاری کو موٹر سائیکل چوری کا بہانہ بنا کربہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا۔

وہ مظلوم چیختا رہا کہ اس نے چوری نہیں کی، ظالموں نے تبریز انصاری کو ستون سے باندھ کر ڈنڈوں اور لاٹھیوں کی بارش کردی اور ہاتھ پاؤں باندھ کرسات گھنٹے تک تشدد کیا گیا جبکہ جے شری رام اور جے ہنومان کے نعرے لگوائے گئے۔

نوجوان ہجوم سے جان بخشنے کی درخواست کرتا رہا لیکن شدید زخمی تبریز انصاری کے خلاف چوری کا مقدمہ درج کرکے اسے جیل بھیج دیا گیا، طبیعت بگڑنے پر اسے اسپتال لے جایا گیا۔ جب اہل خانہ اس سے ملاقات کے لیے پہنچے تو پولیس نے انہیں تبریز سے یہ کہہ کر ملنے سے روک دیا کہ تم چور سے ملنے آئے ہو۔

تبریز کئی گھنٹے تک موت و زندگی کی کشمکش میں رہنے کے بعد زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں