The news is by your side.

Advertisement

ہندوستان میں‌ اسلامی دورِ حکومت میں‌ مساوات اور انصاف

یہ اسلامی حکومت ہی تھی کہ جس نے ہندوستان کی سر زمین پر مسجدوں کی تعمیر کے ساتھ ساتھ مندروں کے لیے زمینیں پیش کیں، جس نے غیر مسلموں کو ان کی مذہبی روایات کو آزادانہ ادا کرنے کی اجازت دی، جس نے ان کے مذہبی تشخص و اقدار کو تحفظ بخشا اور اُسی شان و شوکت کے ساتھ زندگی بسر کرنے کے حقوق دیے جیسے کہ مسلمانوں کو حاصل رہے۔

مسلمانوں کی طرح غیر مسلموں کے حقوق کی ادائیگی کا نہ صرف لحاظ برتا بلکہ اہتمام بھی کیا۔ تاریخ نے یہ بھی دیکھا ہے کہ ایک مسلمان کے غیر مسلم پر ناحق مطالبے پر انصاف کرتے ہوئے غیر مسلم کے حق میں فیصلہ سنایا گیا۔

اسی ہندوستان کی سر زمین پر سیکڑوں برس مسلمانوں کی حکم رانی رہی۔ اُن کے دورِ حکومت امن و سلامتی اور مسلم و غیر مسلم کے درمیان رواداری و انصاف کا آئینہ تھے۔ ان ہی حکم رانوں میں سلطان قطب الدّین ایبک بھی ایسے ہی ایک نیک اور انصاف پسند حاکم تھے۔ انھوں نے اپنے محل کے باہر زنجیرِ انصاف لٹکا رکھی تھی کہ اگر کسی کی حق تلفی ہوتی ہے یا اس پر ظلم کیا جاتا ہے تو مظلوم بلا جھجک اور بے خوف و خطر سلطان تک انصاف کی گہار لگا سکے۔ یہی وہ انصاف پسند مسلم فرماں روا تھا جس نے جرم کی پاداش میں اپنے ہی بیٹے کو قصور وار پائے جانے پر اسلامی احکامِ انصاف پر عمل کرتے ہوئے سرِ عام کوڑے لگائے اور سزا دے کر اسلامی انصاف کی مثال پیش کی۔

اسی ہندوستان میں غیاث الدین بلبن نامی سلطان بھی گزرے جن کا دورِ حکومت امن و سکون اور خوش حالی میں اپنے آپ میں ایک مثال رکھتا ہے۔ اُس دور کے ہندوؤں نے خود اُن کے دورِ حکومت کی تعریف کی ہے جس پر آج بھی تاریخی شہادت موجود ہے۔

دہلی کے قریب پالم میں 1280 عیسوی کا سنسکرت میں لکھا ایک کتبہ دستیاب ہوا جس میں غیاث الدین بلبن کے دورِ حکومت کی تعریف کرتے ہوئے اُس دور کے ہندو مؤرخین کا اعتراف یوں ملتا ہے:

’’بلبن کی سلطنت میں آسودہ حالی ہے۔ اس کی بڑی اور اچھی حکومت میں غور سے غزنہ اور دراوڑ سے رامیشوری تک ہر جگہ بہار کی دل آویزی ہے۔ اس کی فوجوں نے ایسا امن و امان قائم کیا ہے جو ہر شخص کو حاصل ہے۔ سلطان اپنی رعایا کی خبر گیری اتنی اچھی طرح کرتا ہے کہ خود وِشنُو (دیوتا) دنیا کی فکر سے آزاد ہو کر دودھ کے سمندر میں جا کر سو رہے۔ ‘‘

سلطان علاؤالدّین خلجی جن کے متعلق شر پسند طاقتوں نے منصوبہ بند طریقے پر جھوٹ کے پلندے باندھے اور سماج کے اتحاد کو منتشر کرنے کے لیے نفرتوں کی دیوار کھڑی کرتے ہوئے من گھڑت تاریخ مرتب کروائی جب کہ ان کے انصاف کی گواہی آج بھی تاریخ کے سینے میں صحیفوں کی شکل میں موجود ہے۔ ان کے عدل و انصاف کی شہادت پیش کرتے ہوئے فارسی، اردو اور ہندی کے معروف شاعر و صوفی حضرت امیر خسرو ’’خزائن الفتوح ‘‘ میں لکھتے ہیں: ’’اُس نے حضرت عمر کے دور جیسا عدل قائم کر رکھا ہے۔‘‘ ایسا لگتا ہے کہ یہی عدل و انصاف ہے جو علاؤالدّین خلجی کے مخالفین کو پسند نہ آیا یا شاید یہ کہ اس سے ان کی قلعی کھلی، ان کے راز کھلے اور انھیں اپنی قوم سے ہزیمت اٹھانی پڑی جو انھوں نے مخالف ہوا چلا کر ایک امن پسند اور انصاف پسند سلطان کو بدنام کرنے کی کوشش کی۔

سلطان محمد بن تغلق بھی تاریخ ہند کے ایسے ہی مسلم فرمانروا ہیں جنھیں اسلام مخالف طاقتوں نے ظالم بادشاہ کے طور پر پیش کیا ہے جب کہ ان کے انصاف کی گواہی دیتے ہوئے اُس دور کے مؤرخین کا بیان ہے کہ:

ہفتے میں ایک روز سلطان دربار عام منعقد کر کے مظلوموں کی فریاد رسی کرتے۔ سلطان نے اپنے دربار میں چار مفتی مقرر کر رکھے تھے جو اسلامی شریعت کی روشنی میں احکام سناتے اور سلطان اس کے مطابق فیصلہ کرتے۔ حتیٰ کے سلطان نے ان مفتیوں کو متنبہ کر رکھا تھا کہ اگر کوئی بے قصور ان کے فیصلوں کے سبب تہِ تیغ پہنچا تو اس کا خونِ ناحق ان ہی کی گردن پر ہوگا۔

ہندوستان کے مشہور مسلم فرمانروا ’’شیر شاہ سوری‘‘ کی شخصیت کسی تعارف کی محتاج نہیں ۔ شیر شاہ سور ی مساوات اور ہندو مسلم رواداری کا پیکر تھے۔ ان کی رعایا پروری کا اس سے بڑا ثبوت اور کیا ہوگا کہ انھوں نے یہ اعلان کر رکھاتھا:’’ اگر کسی نے بھی میری رعایا کے کسی فرد پر بھی ظلم کیا تو میں اس پر بجلی بن کر گروں گا اور اس کو مٹا کر ہی دَم لوں گا۔‘‘

مغل بادشاہوں میں شہنشاہ اکبر اعظم، جہانگیر اور تاجدارِ مغلیہ اورنگ زیب عالمگیر جیسے بادشاہوں نے انصاف و اسلامی رواداری کے وہ ان مٹ نقوش چھوڑے ہیں جن پر آج بھی تاریخی شہادتیں موجودد ہیں۔

شہنشاہ جہانگیر ایک امن پسند، منصفُ المزاج اور رعایا پرور بادشاہ تھا۔ اس نے اپنے دربار میں بڑے اور اونچے عہدوں پر کئی ہندوؤں کو مامور کیا۔ یہی مغل بادشاہ جہانگیر ہے جس نے متھرا میں ’’گوبند دیوی‘‘ مندر کی تعمیر کے لیے زمین دی۔

(تاریخِ ہند اور مسلمان حکم رانوں کے تذکرے سے اقتباسات)

Comments

یہ بھی پڑھیں