site
stats
کھیل

ریسلنگ کے بین الاقوامی مقابلوں میں پاکستانی نوجوان بھی اپنے ہنر آزمائیں گے

ریسلنگ کے بین الاقوامی مقابلوں میں پاکستان کی کاردگی نہ ہونے کے برابر ہے، ریسلنگ کے پاکستانی شائقین ریسلنگ رِنگ میں کسی پاکستان پہلوان کے داؤ پیچ اور فتح کے بعد خوشی سے بلند ہوتے ہاتھوں کا جواب پاکستان زندہ باد سے دینے کے لیے بے تاب نظر آتے ہیں۔

گزشتہ برس پاکستانی پہلوان بادشاہ خان نے غیرملکی چینل کی جانب سے منعقد کیے گئے ایک مقابلے میں شرکت کے لیے درخواست جمع کرائی تھی،اس مقابلے کے فاتح کو ورلڈ ریسلنگ انٹرٹینمینٹ کا کنٹرکٹ ملنا تھا تا ہم پاکستانی پہلوان یہ اعزاز حاصل نہ کرسکے۔

بادشاہ خاں تو پاکستانیہ شائقین کو امید نہ دلا سکے تا ہم ایک اور نوجوان پہلوان مصطفی علی ورلڈ ریسلنگ انٹرٹینمنٹ مقابلوں میں شرکت کر کے منتخب ہو کر پاکستانی شائقین کے دل جیت لیے ہیں ، مصطفیٰ علی 79 کلو گرام سے 85 کلوگرام وزن رکھنے والے ریسلرز کے درمیان ہونے والے ٹورنامنٹ کروزر ویٹ کلاسک ٹورنامنٹ میں حصہ لیں گے یہ ٹورنامنٹ ورلڈ ریسلنگ انٹرٹینمنٹ نیٹ ورک پر براہ راست دکھایا جائےگا۔

wrestler1

شکاگو میں پیدا ہونے والے پاکستانی نژاد مصطفیٰ علی 13 کی عمر سے ریسلنگ مقابلوں میں شرکت کر رہے ہیں ان کے پسندیدہ پہلوانوں میں ایڈی گیریرورے میسٹیریو،کرس جیریکو،ہایا بوسا،ہارڈی بوائز شامل ہیں جب کہ وہ بچپن سے ہِٹ مین کو اپنا آئیڈیل مانتے آتے ہیں۔

wrestler2

مصطفیٰ علی کا کہنا ہے کہ ورلڈ ریسلنگ انٹرٹینمینٹ میں شرکت کرنا میرے اُس خواب کی تعبیر ہے جو میں بچپن سے دیکھتا آیا ہوں،اس خواب کو حقیقت کا رنگ دینے کے لیے میں نے دن رات انتھک محنت کی میں نے اپنی کئی سالگرہ اور اہم تقریبات تک اس مقابلے کے حصول کے لیے ضائع کیے جس کا مجھے کوئی افسوس بھی نہیں۔

مصطفیٰ علی کو ورلڈ ریسلنگ انٹرٹینمنٹ کی جانب سے منعقد کیے ٹونامنٹ کے لیے منتخب ہونے کے بعد سے نسلی منافرت پھیلانے والوں کی جانب سے شدید تنقید کا سامنا ہے،انہوں نے اپنے ایک پیغام میں کہا کہ نسلی منافرت دنیا میں جاری تمام فسادات کی جڑ ہے کوئی کالا یا گورا نہیں ہوتا سب انسان ہوتے ہیں اور ہمیں رنگ،نسل اور قومیت کے پرچار کے بجائے انسانیت کو فروغ دینا چاہیے۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top