وزیراعظم کراچی اور حیدرآباد میں مردم شماری کو کالعدم قرار دیں، مصطفیٰ کمال
The news is by your side.

Advertisement

وزیراعظم کراچی اور حیدرآباد میں مردم شماری کو کالعدم قرار دیں، مصطفیٰ کمال

کراچی: پاک سرزمین پارٹی کے سربراہ مصطفیٰ کمال نے مطالبہ کیا ہے کہ وزیراعظم کراچی اور حیدرآباد میں مردم شماری کو کالعدم قرار دیں، عمران خان تبدیلی کا نعرہ لے کر آئے ہیں ہمیں آپ سے بہت امیدیں ہیں۔

تفصیلات کے مطابق کراچی میں پاک سرزمین پارٹی کے چیئرمین مصطفیٰ کمال نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ مردم شماری میں کراچی کے 70 لاکھ لوگ کم گنے گئے ہیں اور  فائنل رزلٹ ابھی تک جاری نہیں کیاگیا، کہا گیا تھا مردم شماری کا آڈٹ کیا جائے گا، ابھی تک نہیں ہوا۔

مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ لاہور میں 3 فیصد کی حساب سے آبادی بڑھ رہی ہے، کراچی میں پورے پاکستان سے لوگ آرہے ہیں اور آبادی کو5.7 فیصد کے حساب سے بڑھائی گئی۔

چیئرمین پی ایس پی نے کہا کراچی 2 کروڑ سے زائد افراد کا شہر ہے، وزیراعلیٰ نے سپریم کورٹ میں کہا کراچی میں پانی کا مسئلہ نہیں ہے، 70 لاکھ کو نہ گنا گیا تو کراچی میں قومی اسمبلی کی 15 سے17سیٹیں کم ہوجائیں گی، وزیراعظم سے گزارش ہے کہ کراچی سے ہونے والی زیادتی کا نوٹس لیں۔

ان کا کہنا تھا کہ عمران خان تبدیلی کا نعرہ لے کر آئے ہیں ہمیں آپ سے بہت امیدیں ہیں ، آپ کراچی سے کیسے جیتے اس پر بات نہیں کروں گا، آپ کراچی اور حیدرآباد میں مردم شماری کو کالعدم قرار دیں، کوئی بڑا مسئلہ نہیں ہے کہ یہاں پر دوبارہ گنتی کرائی جائے۔

مصطفیٰ کمال نے کہا کہ 2013 میں تاج حیدر نے نادرا سے کراچی کی آبادی کا ڈیٹا مانگا تھا، 2013 میں کراچی کی آبادی2 کروڑ 14لاکھ روپے رپورٹ ہوئی، کراچی کو اس کا حق ملنے سے آپ مزید سیٹیں بھی جیت سکیں گے، مردم شماری فہرستیں جگہ جگہ آویزاں کردیں ،لوگ خود اپنا گھرانہ دیکھ لیں گے۔

سربراہ پاک سرزمین پارٹی نے ملک بھر میں بلدیاتی نظام رائج کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا وزیراعظم تمام ضلعی حکومتوں کو وسائل کی منتقلی یقینی بنائیں، تمام یوٹیلیٹی میئرکےآفس کے ماتحت ہونی چاہے اور صوبوں کو وفاق سے ملنے والے فنڈ نچلی سطح پر منتقل کرنے چاہییں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ نالیاں بنانے کا کام کسی وزیراعلیٰ کا نہیں میئر کے کرنے کا کام ہے، وقت آگیا ہے کہ 19ویں ترمیم لائی جائے، صوبوں کو دیے گئے اختیارات ضلعی سطح پر منتقل کیے جائیں۔

مصطفیٰ کمال نے کہا وزیراعظم سے امید ہے کہ وہ اپنے کہے ہوئےکام پورےکریں گے، تبدیلی لانے کا طریقہ کار یہی ہے کہ مقامی گورنمنٹ کو پاور دیں، سردار اختر مینگل نے بلوچستان کے لاپتہ افراد کا مسئلہ ایوان میں پیش کیا، اب خالد مقبول صدیقی کراچی کے لاپتہ لوگوں کامسئلہ قومی اسمبلی میں پیش کریں۔

چیئرمین پی ایس پی کا کہنا تھا کہ بلوچستان،خیبرپختونخوا کے لوگوں سے اسلحہ لے کر پھولوں کا گلدستہ پیش کیا گیا، ہمارا یہ مطالبہ ہے کہ کراچی کے نوجوانوں کو بھی موقع فراہم کیا جائے، خالدمقبول صدیقی اب تو خود حکومت کا حصہ ہیں، وہ کراچی کے نوجوانوں کو ایک مرتبہ ایمنسٹی دلوائیں، پاکستان میں دوسری جگہ ایسا ہورہا ہے تو کراچی میں بھی کیا جائے۔

انھوں نے مزید کہا کہ 2سال میں کراچی میں امن کیلئے ہم نے بہت محنت کی ہے، خالدمقبول ،اخترمینگل کی طرح کراچی کے نوجوانوں کا مقدمہ پیش کریں۔

سربراہ پاک سرزمین پارٹی کا کہنا تھا کہ جنہیں گمان تھا کہ پی ایس پی ختم ہوگئی انہیں مایوسی کاسامنا کرناپڑےگا، جب بھی ضمنی الیکشن ہوں گے، ہم بھرپور حصہ لیں گے، آپ خاطر جمع رکھیے،ابھی تو پارٹی شروع ہوئی ہے۔

شہر قائد میں پانی کے مسئلے کے حوالے سے انھوں نے کہا کراچی میں 12 سو ملین گیلن پانی کی ضرورت ہے، 6 سو ملین گیلن پانی دیا جارہا ہے، کے فور منصوبہ مکمل ہونے تک کراچی کی ڈیمانڈ 15سو ملین گیلن ہوچکی ہوگی، کرپشن کی وجہ سے آنے والے پانی کی منصفانہ تقسیم بھی نہیں ہو رہی ہے۔

مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ ہم نے اللہ کی رضا کیلئے یہ کام شروع کیا، وہ ہی ہماری اسٹیبلشمنٹ ہے، ہر ناکامی میں ایک امتحان ہے، ہم نے اپنے قوت بازو  پر  بھروسہ کیا، چاہے جیسے بھی الیکشن ہوئے، ہم عمران خان کو وزیراعظم مان چکے ہیں۔

انھوں نے مزید کہا کراچی کے میئر کو تمام اختیارات دیے جانے چاہیئں،میئر کے آفس کو اختیارات دینے کا مطالبہ کرتا ہوں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں