The news is by your side.

Advertisement

مصطفی کمال کا نیب کے سامنے سرنڈر کرنے کا فیصلہ، عبوری ضمانت کرالی

کراچی : پاک سرزمین پارٹی کے سربراہ مصطفیٰ کمال نے نیب کے سامنے سرنڈر کرنے کا فیصلہ کرلیا جبکہ عدالت نے مصطفیٰ کمال کی ضمانت منظور کرتے ہوئے 10 لاکھ کے مچلکے جمع کرانے کی ہدایت کردی ہے۔

تفصیلات کے مطابق پی ایس پی سربراہ مصطفی کمال نے نیب کے سامنے سرنڈر کرنے کا فیصلہ کرلیا اور عبوری ضمانت حاصل کرنے کے لئے سندھ ہائی کورٹ سے رجوع کیا ، مصطفیٰ کمال کی جانب سےدرخواست میں کہاگیا تھا نیب کی جانب سے بے بنیاد الزامات عائد کرکے ریفرنس میں نام شامل کردیاگیا۔

سندھ ہائی کورٹ میں سابق ناظم کراچی مصطفی کمال اوردیگر کےخلاف پلاٹس کی غیرقانونی الاٹمنٹ کیس کی سماعت ہوئی تو عدالت نےمصطفے کمال کوخودبولنے سے روک دیا اور کہاوکیل کی موجودگی میں آپ نہیں بول سکتے۔

مصطفیٰ کمال کےوکیل حسان صابرکاکہنا تھا نیب سےہرمرحلےپرتعاون کیا،جواب داخل کیاجاچکاہے۔

مصطفیٰ کمال نے عدالت سےدرخواست کی احتساب عدالت میں پیش ہوکر الزامات کاسامنا کرنے کیلئے تیار ہوں، نیب کوگرفتار کرنے سے روکا جائے، بار بار نوٹس کے باوجود پیش نہ ہونے پر احتساب عدالت نے آخری وارننگ جاری کی تھی۔

عدالت نے مصطفیٰ کمال کی ضمانت منظور کرتے ہوئے 10 لاکھ کے مچلکے جمع کرانےکی ہدایت کردی۔

خیال رہے احتساب عدالت نے پی ایس پی سربراہ کو ستائیس جولائی کوذاتی طورپرپیش ہونے کاحکم نامہ جاری کیا تھا،مصطفی کمال پر بحیثیت سٹی ناظم کلفٹن میں پلاٹ کی غیر قانونی الاٹمنٹ کا الزام ہیں۔

یاد رہے جون میں قومی احتساب بیورو(نیب)نے پاک سرزمین پارٹی کے چیئرمین مصطفی کمال سمیت دیگرکے خلاف احتساب عدالت میں ریفرنس دائر کرتے ہوئے ملزم پر ساحل سمندر پر ساڑھے 5 ہزار مربع گز زمین کی غیرقانونی الاٹمنٹ کا الزام عائد کیا تھا۔

نیب ریفرنس کے مطابق زمین 1980 میں ہاکرز اور دکانداروں کو لیز پر دی گئی تھی جو 2005 میں نجی تعمیراتی کمپنی نے لیز پر حاصل کرلی، مصطفی کمال نے بلڈر کو کثیرالمنزلہ عمارت تعمیر کی غیرقانونی اجازت دی ۔

نیب کی جانب سے دائر ریفرنس میں دیگر ملزمان میں ڈی جی ایس بی سی اے افتخار قائمخانی، فضل الرحمان، ممتاز حیدر اور نذیر زرداری شامل ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں