پیر, جولائی 13, 2026
اشتہار

خالد مقبول بانی متحدہ نہیں، میں بھی پارٹی چیئرمین شپ کے لیے الیکشن لڑوں گا، مصطفیٰ کمال

اشتہار

حیرت انگیز

کراچی : متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے سینئر رہنما مصطفیٰ کمال کا کہنا ہے کہ خالد مقبول بانی متحدہ نہیں، میں بھی پارٹی چیئرمین شپ کے لیے الیکشن لڑوں گا۔

تفصیلات کے مطابق متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے سینئر رہنما مصطفیٰ کمال نے اے آر وائی نیوز کے پروگرام الیونتھ آر میں پارٹی کی اندرونی سیاست اور تنظیمی ڈھانچے کے حوالے سے انتہائی چونکا دینے والے انکشافات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی اس وقت پارٹی کے "قانونی اور غیر قانونی” چیئرمین ہیں کیونکہ ان کی مدتِ عہدہ ختم ہو چکی ہے۔

انہوں نے اعلان کیا کہ خالد مقبول کوئی بانیِ متحدہ نہیں ہیں، اس لیے آنے والے وقت میں وہ خود بھی پارٹی چیئرمین شپ کے لیے الیکشن لڑیں گے۔

مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ خالد مقبول صدیقی نے الیکشن کمیشن جا کر چوتھی بار اپنے عہدے کی مدت میں توسیع لی ہے اور اب وہ اکتوبر تک پارٹی کے چیئرمین ہیں۔

انہوں نے طنز کرتے ہوئے کہا کہ میں نے آج تک کہیں نہیں سنا کہ کوئی پارٹی چیئرمین خود الیکشن کمیشن جائے اور کہے کہ میرے الیکشن کی تاریخ آگے بڑھا دیں، یہ پہلی بار ہے کہ ہمارا لیڈر خود الیکشن کمیشن جا کر ایکسٹینشن مانگ رہا ہے۔

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ لیڈر تو اتنا طاقتور ہوتا ہے کہ وہاں الیکشن کی ضرورت ہی نہیں ہوتی، خالد مقبول نے چوتھی بار توسیع لی اور کسی نے الیکشن کمیشن جا کر اس کی مخالفت بھی نہیں کی، لیکن ہم بھی دیکھ رہے ہیں کہ یہ کیسی جمہوریت ہے، اس لیے ہم بھی اب چیئرمین شپ کا الیکشن لڑیں گے۔

پارٹی کی سینٹرل کمیٹی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انھوں نے واضح کیا کہ وہ خود خالد مقبول صدیقی کی سربراہی میں قائم ایم کیو ایم کی سینٹرل کمیٹی کے رکن ہیں۔

تاہم، انہوں نے ان افواہوں کی تردید کی کہ کامران ٹیسوری کو گورنر سندھ کے عہدے سے ہٹانے یا برقرار رکھنے پر کوئی اختلافات ہیں۔

مصطفیٰ کمال نے بتایا کہ سینٹرل کمیٹی میں تاحال گورنر کامران ٹیسوری کے عہدے کے معاملے پر کوئی بات نہیں ہوئی، بلکہ حقیقت یہ ہے کہ اس موضوع پر سینٹرل کمیٹی کی ابھی تک کوئی میٹنگ ہی منعقد نہیں ہوئی ہے۔

اہم ترین

مزید خبریں