The news is by your side.

Advertisement

فاروق ستارکو روتا دیکھ کردل چاہ رہا تھا انہیں ٹافی یاچاکلیٹ دوں، مصطفیٰ کمال

کراچی : پاک سرزمین پارٹی کے سربراہ مصطفیٰ کمال کا کہنا ہے فاروق ستارکودیکھ کردل چاہ رہاتھاانہیں ٹافی یاچاکلیٹ دوں۔

تفصیلات کے مطابق پاک سرزمین پارٹی کے سربراہ مصطفی کمال نے ایم کیوایم پاکستان کے سربراہ فاروق ستارکی پریس کانفرنس پر ردعمل کا اظہارکرتے ہوئے کہا ہے کہ فاروق ستارپریس کانفرنس میں رو رہےتھے، فاروق ستار کو دیکھ کردل چاہ رہاتھا انہیں ٹافی یاچاکلیٹ دوں، فاروق ستارکورونے سے روکنے کے لئے ٹافی دیناچاہ رہا تھا۔

مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ ملک کوکسی کی پرواہ نہیں،ملک پررحم کیاجائے، یہ کیسانظام اورکیسی جمہوریت ہے،ٰ میئرکراچی کےپاس عام سہولتیں فراہم کرنےکااختیارنہیں۔
،
سربراہ پی ایس پی نے کہا ماسٹرپلان ایس بی سی اےکودینابڑاظلم ہے، کچھ وقت انتظار کرلیں،بھرپور جواب دیں گے ، آبادی کاانخلاروکنےکیلئےنئےشہربنانےکی ضرورت ہے، مردم شماری کےنتائج تسلیم نہیں کرتے۔

انھوں نے مزید کہا کہ کثیرالمنزلہ عمارتوں پرپابندی ظلم ہے، حکومت صحیح کام نہیں کررہی اسےبھی بندکردیں، سڑکوں پرحادثے ہوتے ہیں، ٹرانسپورٹ بھی بندکردیں۔

  بائیس اگست کے بعد سے بانی ایم کیو ایم کےساتھ کوئی رابطہ نہیں، فاروق ستار

یاد رہے کہ متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے سربراہ ڈاکٹر فاروق ستار نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا تھا کہ22  اگست کےبعدسےبانی ایم کیو ایم کےساتھ کوئی رابطہ نہیں ، ایم کیوایم پاکستان کےتمام ساتھی میرےساتھ ہیں، ہم نےاپنی پالیسی مل کربنائی ہے، میرامطالبہ ہے ایم کیوایم چھوڑنے والے اپنی نشستیں چھوڑدیں۔

فاروق ستار کا کہنا تھا کہ میں نے کیاگناہ کیا ہے،میرےساتھ یہ سلوک کیوں؟، 22اگست سے پہلے پارٹی کا بہت دفاع کیا، 22 اگست کے بعد ہم نے ریاست پاکستان کےساتھ جانے کا فیصلہ کیا، ہمارا لندن والوں سے کوئی رابطہ نہیں، بانی ایم کیوایم کو نہ خفیہ اور نہ ہی کسی کے ذریعے مبارکباد دی۔

انھوں نے مزید کہا آئین پاکستان کو بنیاد بنا کر تمام کام کیےہیں، ایم کیوایم میرےنام سےرجسٹرڈہے، ہماراامتحان ہوگیا،اب تک پی ایس پی کاامتحان نہیں ہوا، پی ایس پی کیوں ضمنی انتخابات میں حصہ نہیں لیتی۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں