The news is by your side.

Advertisement

بانی متحدہ مکافاتِ عمل کا شکارہیں، مصطفیٰ کمال

کراچی: پاک سرزمین پارٹی کے رہنما مصطفیٰ کمال کا کہنا ہے کہ آج بانی ایم کیو ایم کے خاص ساتھی بھی انہیں چھوڑ کرجاچکے ہیں، یہ مکافاتِ عمل ہے۔

تفصیلات کے مطابق بانی ایم کیو ایم کی گرفتاری پر ردعمل دیتے ہوئے پی ایس پی کے رہنما مصطفیٰ کمال کا کہنا ہے کہ ہم بہت سالوں سےایک ٹریپ میں پھنسےہوئےہیں، کئی دہائیوں سے یہ سلسلہ مہاجر قوم کے ساتھ جاری ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ بانی ایم کیوایم آج سےپہلےبھی گرفتارہوئےتھے،آج پوراسیٹ بانی ایم کیوایم کےساتھ نہیں ہے، ان کے خاص ساتھی انہیں چھوڑ کرجاچکے ہیں اور اب صرف ان کے تنخواہ دار ان کے ساتھ ہیں۔

مصطفی ٰ کمال کا کہنا ہے کہ بانی ایم کیو ایم کےساتھ جوہورہاہےوہ مکافات عمل ہے،ہمارے7کارکنان مارےگئےہم نےپلٹ کرکچھ نہیں کیا۔

ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ میں نے ایم کیو ایم میں رہتے ہوئے کوئی ثبوت جمع نہیں کیے، میں کسی کا ایجنٹ نہیں تھا جو ثبوت جمع کرتا۔ بانی ایم کیو ایم کی تقاریراوران کےاعمال ہی ان کےخلاف شواہدہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ مجھےان کےخلاف کسی ثبوت کی ضرورت نہیں ہے،لندن پولیس کےپاس پہلےہی بہت شواہدموجودہیں۔

بانی ایم کیو ایم لندن میں گرفتار، اسکاٹ لینڈیارڈ کی تصدیق

آج صبح اسکاٹ لینڈ یارڈ نے بانی ایم کیو ایم کو صبح 8 بجے ان کےگھر پر چھاپہ مار کر انھیں حراست میں لیا، گرفتاری کے بعد انھٰیں مقامی پولیس اسٹیشن منتقل کردیا گیا ، نارتھ لندن میں چھاپے میں15 پولیس افسران نے حصہ لیا تھا۔

نارتھ لندن میں بانی ایم کیوایم کےگھرکی تلاشی لی جارہی ہے، بانی ایم کیو ایم کی گرفتاری ممکنہ طور پر 2016 کی نفرت انگیز تقریر پر کی گئی، نفرت پھیلانے کے جرم میں 6ماہ سے 3 سال تک کی سزاہوسکتی ہے۔

یاد رہے اگست 2016 میں کراچی پریس کلب کے باہر قائد ایم کیو ایم کی جانب سے پاکستان مخالف اشتعال انگیز تقریر کی گئی تھی، جس کے بعد مظاہرین نے اے آر وائی نیوز کے دفتر پر حملہ کر کے دفتری املاک کو شدید نقصان پہنچایا اور دفتر میں موجود اسٹاف کو بھی زدکوب کیا تھا۔

بعد ازاں اسکاٹ لینڈ یارڈ نے تصدیق کرتے ہوئے کہا تھا ’’ایم کیو ایم سے منسلک برطانوی شہری کی تقریر کا مکمل متن حاصل کرلیا ہے، جس کا ترجمہ کیا جارہا ہے تاکہ برطانوی قوانین کی روشنی میں اس حوالے سے کارروائی عمل میں لائی جائے‘‘۔

ترجمان اسکاٹ لینڈ یارڈ کا کہنا تھا کہ ’’اشتعال انگیز تقریر کے بعد برطانیہ اور بیرون ممالک میں مقیم پاکستانی کمیونٹی کی جانب سے کئی افراد نے بذریعہ خطوط اور کالز اپنی شکایات درج کروائیں تھیں جس پر تحقیقات کا آغاز کیا گیا‘‘۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں