The news is by your side.

Advertisement

رشوت لے سکتا تھا لیکن میں رشوت العباد نہیں بنا، مصطفیٰ کمال

کراچی : پاک سر زمین پارٹی کے سربراہ مصطفی کمال نے کہا ہے کہ کراچی اور پاکستان بہت مشکل دور سے گزر رہا ہے، اپنی نظامت کے دور میں بھی رشوت لے سکتا تھا لیکن میں رشوت العباد نہیں بنا، کراچی شہر کے لوگ پانی آنے پر خوشی کا اظہار کرتے ہیں، تالیاں بجاتے ہیں۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے بلدیہ سعید آباد میں پارٹی دفاتر کی افتتاحی تقریب میں خطاب کرتے ہوئے کیا، مصطفی کمال نے کہا کہ کراچی 70 فیصد رہونیو دیتا ہے لیکن اس شہر کو پانی میسر نہیں ہے۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے بعد آزاد ہونیوالے ممالک ترقی کر گئے ہیں لیکن ہم آج بھی روٹی، کپڑا اور مکان کو روتے ہیں۔

45 فیصد بچوں کی خوراک نہ ہونے کی وجہ سے نشوونما صحیح نہیں ہو رہی ہے۔ کراچی میں ز ندگی موت میں بدل جاتی ہے لیکن عوام کو انصاف نہیں ملتا۔ یہاں عدالتیں پھانسی پر چڑھ جانے والوں کو مقدمے بری کررہی ہیں یہ کونسا انصاف ہے؟

مصطفیٰ کمال نے ایک بار پھر گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ الطاف حسین کا گورنر 14 سال سےرشوت وصول کررہا ہے۔

50 ہزار روپے لے کر یہ جعلی ڈگری بنارہا ہے، میں اپنی نظامت کے دور میں بھی رشوت لے سکتا تھا لیکن میں رشوت العباد نہیں بنا۔ میں نے جو بولا تھا سب سچ ثابت ہوا۔

انہوں نے کہا کہ مہاجروں نے جن لوگوں کو ووٹ دئیے ان کو لاشیں چاہیئں ۔لاپتہ اور گرفتار افراد چاہیئں۔ اگر اپنی نسلیں بچانی ہے تو ان لوگوں کا ساتھ چھوڑنا ہوگا۔

30 سال سے بہت ڈرامہ دیکھ لیا۔ میں پیسے کمانے یا جائیدادیں بنا نے نہیں آیا ۔ ہم جو کر رہے ہیں وہ جہاد ہے۔ ہم لڑائی نہیں کرینگے ہماری مارنے مرنے کی پالیسی نہیں ہے۔

مصطفی کمال نے کہا کہ کے ایم سی کے 250 ملازمین تنخواہوں سے محروم ہیں۔ ان ملازمین کا تعین نہیں ہوا کہ یہ کے ایم سی کے ملازم ہے یا کے ڈی اے کے لوگوں کے گھروں میں فاقے ہو رہے ہیں۔

اپنے حقوق کیلئے پرامن احتجاج کرینگے ۔ ہم اپنے حقوق چھین لیں گے۔ افتتاحی تقریب سے رضا ہارون اور دیگر نے بھی خطاب کیا۔

 

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں