The news is by your side.

Advertisement

حیدرآباد کے بلدیاتی نمائندے پیسہ لوٹ کر لندن بھیج رہے ہیں، مصطفیٰ کمال

کراچی : پاک سرزمین پارٹی کے چیئرمین مصطفیٰ کمال یوسف شاہوانی کو پی ایس پی میں شمولیت پر خوش آمدید کہتے ہوئے کہا ہے کہ حیدرآباد کے بلدیاتی نمائندے عوام کا پیسہ لوٹ کر لندن بھیج رہے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق ایم کیو ایم پاکستان کے آپسی تنازعات اور مسلسل دھڑے بندی کے باعث منتخب اراکین اسمبلی اور ذمہ داران و کارکنان کی تیزی سے پی ایس پی شمولیت جاری ہے، رکن سندھ اسمبلی یوسف شاہوانی بھی پی ایس پی میں شامل ہوگئے۔

پی ایس 90 بلدیہ ٹاؤن سے رکن سندھ اسمبلی منتخب یوسف شاہوانی نے شمولیت کا باضابطہ اعلان پاک سر زمین پارٹی کے سربراہ مصطفیٰ کمال کے ساتھ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔

پاک سر زمین پارٹی ککے چیئرمین مصطفیٰ کمال نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ رکن سندھ اسمبلی یوسف شہوانی کو پاک سرزمین پارٹی میں خوش آمدید کہتا ہوں۔

ان کا کہنا ہے کہ حیدرآباد میں موجودہ بلدیاتی حکومت بد ترین کارکردگی رواں رکھی ہوئی ہے، بلدیاتی نمائندے عوام کی خدمات کرنے کے بجائے عوام کا پیسہ لوٹ کر لندن بھیجنے میں مصروف ہیں۔

پی ایس پی سربراہ کا کہنا ہے کہ کراچی اور حیدر آباد کی عوام تبدیلی کے لیے پی ایس پی ساتھ ہے، بہت جلد ظلم کا یہ نظام ختم ہونے والا ہے، لوگ ظلم کے خلاف کھڑے ہوگئے ہیں جلد تبدیلی دکھی گی۔

مصطفی کمال نے بجلی کے بحران پر شاہد خاقان عباسی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ شہر قائد میں بجلی کا مصنوعی بحران پیدا ہوا تو وزیر اعظم کو یہاں آنا پڑا، لیکن کراچی میں بجلی کے مسئلے کا حل ایک میٹنگ نہیں ہے۔

انہوں نے کہا ہے کہ بجلی کی فراہمی کے لیے ڈسٹری بیوشن کمپنی ایک سے زائد ہونی چاہیئے، عوام کے الیکڑک کے رحم و کرم پر نہیں رہ سکتے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے معاشی حب میں درجنوں مسائل پیدا ہوچکے ہیں پی ایس پی نے عوام کے ساتھ بحرانوں کے خلاف دھرنا دیا تو خواتین اور بچوں پر شیلنگ ہوئی۔

یاد رہے کہ گذشتہ چند روز کے دوران متحدہ پاکستان کے متعدد اراکین اسمبلی پاک سرزمین پارٹی میں شمولیت اختیار کرچکے ہیں، جن میں رکن سندھ اسمبلی سلیم بندھانی ، شبیرقائم خانی ، رکن قومی اسمبلی محوب عالم اورایم پی اے سیف الدین خالد، رکن اسمبلی فوزیہ حمید شامل ہیں۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں، مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں