The news is by your side.

Advertisement

ایم کیو ایم کو پیپلزپارٹی سے نہیں ہم سے خطرہ ہے، مصطفیٰ کمال

کراچی : چیئرمین پاک سر زمین پارٹی مصطفیٰ کمال نے پریس کانفرس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایم کیو ایم پاکستان کو پیپلز پارٹی سے نہیں بلکہ پاک سر زمین پارٹی سے خطرہ ہے۔

تفصیلات کے مطابق پاک سر زمین پارٹی کے سربراہ مصطفیٰ کمال نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ کیا ٹنکی گراؤنڈ میں جلسہ منعقد کرنے سے زخموں پر مرہم رکھ دیا جائے گا۔

چیئرمین پی ایس پی مصطفیٰ کمال نے ایم کیو ایم پاکستان کے سربراہان کو متوجہ کرتے ہوئے کہا کہ جب پیپلز پارٹی مہاجروں ختم کرنے میں لگی ہوئی تھی اس وقت خیال کیوں نہیں آیا، کیا مہاجر آپ کے جلسے کے محتاج ہیں۔

پی ایس پی کے سربراہ کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کی وجہ سے غلط حلقہ بندیاں ہوئیں اس وقت مہاجر یاد نہیں آئے، کیوں کہ سنہ 2008 سے 2013 تک پی پی پی کے ساتھ ہی حکومت میں رہے۔

مصطفیٰ کمال کا کہنا ہے کہ شہر کا میئر اور بلدیاتی نمائندے آپ کے ہیں 10 سالوں میں کیا کام کیا، ایم کیو ایم پاکستان نے خود تمام اختیارات پیپلز پارٹی کو سونپے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ایم کیو ایم پاکستان تو سنہ 2013 میں بھی سندھ حکومت کا حصّہ تھی 2015 میں انہیں الگ کردیا گیا، اس مدت میں آپ نے کبھی مہاجروں کے لیے پانی و بجلی کے مسئلے پر احتجاج کیا۔

چیئرمین پی ایس پی نے کہا ہے کہ ایم کیو ایم پاکستان نے چوروں کے ساتھ مل کر مہاجروں کو لوٹا ہے، مہاجر اب اتنا باشعور ہوگیا ہے کہ آپ کے ناپاک جرائم میں ساتھ نہیں دے گا۔ ایم کیو ایم کو پیپلز پارٹی سے نہیں بلکہ پاک سر زمین پارٹی سے خطرہ ہے۔

مصطفیٰ کمال نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ 34 برس قبل بھی یہی نعرہ لگایا تھا جاگ مہاجر جاگ آج بھی یہ ہی نعرہ لگایا جارہا ہے۔ مہاجروں کی ایک نسل قبرستانوں میں اور ایک نسل لاپتہ اور بھاگ رہی ہے۔

انہوں نے کہا ہے کہ زخم دینے والے آج بھی مہاجروں کو نوچنے میں لگے ہوئے ہیں، ایم کیو ایم پاکستان اور پی پی پی کے درمیان رومانس کوئی نئی بات نہیں ہے، ایم کیو ایم پاکستان والے کیا سمجھتے ہیں کہ مہاجروں کے پاس کوئی اور آپشن نہیں ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ شہرمیں پانی صرف مہاجروں کو نہیں بلکہ ہر قومیت کو ملنا چاہئے، اپنی سیاست کیلئےمہاجروں کودوسری کمیونٹی سےلڑانانہیں چاہتا، مہاجروں کو لڑایا تو تنکے کے برابر بھی بھلا نہیں کرپاؤں گا۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں، مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں