مصطفیٰ کمال کا اگلے ہفتے سوئی سدرن گیس کے دفتر کے سامنے احتجاج کا اعلان
The news is by your side.

Advertisement

مصطفیٰ کمال کا اگلے ہفتے لوڈ شیڈنگ کے خلاف بڑے احتجاج کا اعلان

کراچی: پاک سرزمین پارٹی کے سربراہ مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ خدا کی قسم یہاں سیاست کرنے نہیں آیا، 18 ،18 گھنٹے میرے شہر میں لائٹ نہیں ہوتی، ڈھائی کروڑ لوگ بجلی نہ ہونے کی وجہ سے متاثر ہو رہے ہیں، اگلے ہفتے سوئی سدرن گیس کے دفتر کے سامنے احتجاج کریں گے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا، مصطفیٰ کمال کا کہناتھا کہ کے الیکٹرک کہتی ہے سوئی سدرن والے گیس فراہم نہیں کر رہے جبکہ سوئی سدرن والےکہتے ہیں کہ فیلڈ سے گیس نہیں آرہی، بعد میں پتہ چلا گیس آرہی ہے مگر کے الیکٹرک نے واجبات ادا نہیں کئے، شہر میں بجلی کا مصنوعی بحران پیدا ہوچکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکام کو تنبیہ کرتا ہوں کہ کراچی والے امن پسند لوگ ہیں، سردیوں میں گیس اور گرمیوں میں بجلی نہیں ہوتی، اس طرح میرے بچوں کی نسل کشی مت کرو، اگر انہوں نے فیصلہ کر لیا تو مرنے سے پہلے تمہیں ماریں گے، شہر میں بجلی کا بحران حقیقی ہوتا تو صبر کر لیتے لیکن یہ مصنوعی بحران ہے۔

کراچی، بجلی بریک ڈاؤن کے خلاف مصطفیٰ کمال کا احتجاج کا اعلان

چیئرمین پی ایس پی کا کہنا تھا کہ جب لوگ مرنے لگے تو وزیر اعلیٰ کا بیان آیا کہ وزیر اعظم کو خط لکھ دیا، وزیر اعلیٰ سے کہتا ہوں کہ وزیراعظم بھارت کا ہے جو خط لکھ رہے ہو، ملک کو 70 فیصد ریونیو دینے والے صوبے کا وزیر اعلیٰ بجلی مانگ رہا ہے۔

مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ کراچی کا صارف ایک دن بل میں تاخیر کرے تو بجلی کٹ جاتی ہے، تم کراچی والوں سے بل لیتے ہو آگے پیسے کیوں نہیں دیتے، ملک بھر میں ایل این جی دستیاب ہے اس سے بجلی پیدا نہیں کرتے، اس کی وجہ یہ ہے کہ ایل این جی کے لیے نقد پیسے دینا پڑیں گے اس لیے استعمال نہیں کرتے۔

کان کھول کرسن لیں کراچی لاوارث نہیں، پی ایس پی کلین سوئپ کرے گی، مصطفیٰ کمال

ان کا مزید کہنا تھا کہ کے الیکٹرک کو تقریبا 200 ارب روپے میں بیچ دیا گیا ہے جبکہ نیپرا نے 2 سال پہلے فیول چارجز کم ہونے پر یونٹ سستا کرنے کا حکم دیا لیکن نیپرا نے فی یونٹ ساڑھے 3 روپے کم کیا تو کے الیکٹرک عدالت چلی گئی اور عدالت سے اسٹے لے کر کے الیکٹرک کراچی والوں سے 75ارب روپے سے زائد لےچکی ہے۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں، مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں