مصطفیٰ کمال کی پریس کانفرنس، ہلچل مچ گئی -
The news is by your side.

Advertisement

مصطفیٰ کمال کی پریس کانفرنس، ہلچل مچ گئی

کراچی: سابق سٹی ناظم مصطفیٰ کمال اورانیس قائم خانی کراچی میں پریس کانفرنس سے خطاب کررہے ہیں، مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا میں اور انیس قائم خانی 2013 میں ہم ایم کیوایم سے لاتعلق ہوچکے ہیں،  مصطفی کمال نے انیس قائم خانی کے ہمراہ ایک نئی پارٹی کے قیام کااعلان کردیا۔

پریس کانفرنس میں مصظفیٰ کمال نے انیس قائم خانی کے ہمراہ ایک نئی جماعت قائم کرنے کا اعلان کیا، جس کا فی الحال کوئی نام نہیں ہے۔

اس موقع پرانہوں نے پاکستان کے قومی پرچم کو اپناپارٹی پرچم قراردیا اور کہا کہ ہماری پارٹی میں اس پرچم کے ماننے والے تمام افراد کا احترام لازم ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم یہاں لوگوں کو ٹکڑوں میں بانٹنے نہیں آئے بلکہ پاکستان کے عوام کو جوڑنے آئے ہیں۔

مصطفیٰ کمال نے اپنی اورانیس قائم خانی کی قائم کردہ نوزائیدہ پارٹی کا منشوربیان کرتے ہوئے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ پورے ملک میں بلدیاتی نظام اپنی پوری روح کے ساتھ نافذ العمل ہوجائے۔

ان کا کہنا تھا کہ ان کی جماعت پاکستان میں صدارتی نظام کے لئے جدوجہد کرے گی۔

ان کا کہناتھا کہ آج ہم جن ملکوں میں جانیں کے لئے ویزہ کی لائن میں کھڑے رہتے ہیں وہاں دوسو سال پہلے بلدیاتی نظام نافذ ہوچکا۔

ان کا کہنا تھا کہ متحدہ قومی موومنٹ کو خیر آباد کہنے کے بعد آج میڈیا سے ہماری پہلی گفتگو ہے جو کہ تین حصوں پرمشتمل ہے، ہم گئے کیوں تھے ، آئے کیوں ہیں اور اب کیا کریں گے؟۔

انہوں نے صحافیوں کو یاد دلایا کہ 2008 سے2013 تک ایم کیو ایم نے اپنے ووٹرز کی کوئی خدمت نہیں کی جس کے سبب تحریک انصاف نے ساڑھے آٹھ لاکھ ووٹ لینے میں کامیابیی حاصل کرلی۔

اس کے باوجود اپنے انتظامی ڈھانچے کے سبب ایم کیوایم 2013 نہ صرف یہ کہ اپنی سیاسی پوزیشن مستحکم رکھنے میں کامیاب رہی بلکہ سکھر سے اضافی نشستیں حاصل کرلیں۔

مصطفیٰ کمال نے کہا کہ مجھ ایسے کارکنان کا خیال تھا کہ ایم کیوایم کے قائد اب معاملات کو سنجیدگی سے لینا شروع کریں گے تاہم ایسا نہیں ہوا۔ تین تلوار پر پی ٹی آئی کے احتجاج کو تشدد کے ذریعے ختم کرانے کا کہا گیا جس پر مقامی قیادت نے الطاف حسین سے احتلاف کیا۔

مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ ایم کیوایم کےقائد نے 19 مئی 2013 میں رابطہ کمیٹی کے ارکان کی نشے کی حالت میں کارکنان کے ہاتھوں تذلیل کرائی، جس کے سبب مقامی قیادت کارکنان پرکنٹرول برقراررکھنے میں ناکام رہی۔

انہوں اردو بولنے والے لوگوں کو مخاطب کرکے دعویٰ کیا کہ ایم کیوایم کے قائد الطاف حسین کوکسی بھی مہاجر کی فکر نہیں اور نہ ہی کسی کارکن کی پرواہ ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ جب سے پارٹی میں آئے ہیں لوگوں کو مرتے دیکھا تھا، کتنی مثالیں ایسی ہیں کہ جن بچوں نے 1992میں اپنے باپ کو دفنایا تھا آج ان کے بچے انہیں دفنا رہے ہیں۔ دونسلیں برباد ہوچکیں ہیں۔
مصطفیٰ کمال 2005 سے 2010 تک کراچی کے سابق سٹی ناظم رہے ہیں اور2011 میں سینٹ کے ممبربھی منتخب ہوئے تھے اوراگست 2013میں ملک چھوڑںے تک سینٹ کے ممبررہے تھے۔

پریس کانفرنس سے قبل سابق سٹی ناظم نصطفیٰ کمال نے اے آروائی نیوزکے ذرائع سے گفتگو کرتے ہوئے کہاتھا کہ پریس کانفرنس بڑی ہلچل والی ہوگی، اللہ نے جو دماغ میں ڈالا ہے اس کا اعلان کریں گے۔

مصطفیٰ کمال اور انیس قائم خانی آج صبح چار بجےغیر ملکی ایئرلائن کی پرواز ای اے 604 سے کراچی پہنچے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ 2013 میں ہمارے خلاف کوئی مقدمات نہیں تھے تاہم ہم نے اللہ کے خوف اورضمیرکی آوازپرایم کیو ایم سے علیحدگی کا فیصلہ کیا۔

مصطفیٰ کمال نے دعویٰ کیا کہ انہیں فخرہے کہ جب میری نظامت کے آخری دن تھے تو میرے گھروالے کرایے کا مکان ڈھونڈ رہے تھے ، فخر ہے کہ کسی مقام پر کوئی لغزش نہیں ہوئی۔

مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ واپس آنے کا فیصلہ انتہائی مشکل تھا تاہم جس صورتِ حال سے ہم دوچارتھے آج ملک کا بچہ بچہ اس صورتحال میں گرفتارہے۔

انہوں نے کہا کہ ڈاکٹرعمران فاروق کے قتل کیس کی تحقیقات کے دوران اسکاٹ لینڈ یارڈ نے انکشاف کیا کہ الطاف حسین کے بھارت سے تعلقات ہیں اور فنڈنگ لے کرپاکستان میں دہشت گردی کی جاتی ہے۔ ان کاکہنا تھا کہ ایم کیو ایم کے قائدالطاف حسین، طارق میر اورمحمد انور نے اسکاٹ لینڈ یارڈ کے سامنے سارے جرم قبول کرلئے۔

سابق سٹی ناظم نے انکشاف کیا کہ ایم کیوایم کی اعلیٰ قیادت اور رابطہ کمیٹی باخبرہے کہ 20 سال سے بھارت سے فنڈنگ لی جارہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمارا مقصد یہ ہے کہ ایم کیو ایم کے قائد اپنے کارکنان سے سچ بولیں، جو مقصد ہے اسے واضح کریں، آخر طالبان اور بی ایل اے بھی تو ببانگِ دہل اپنے مقصد کا اعلان کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں یہ فکر نہیں کہ کتنے لوگ ہمارے بات سنتے ہیں، ہمارا مقصد اپنے رب کی نظروں میں سرخرو ہونا ہے اورہم اس مقصد میں کامیاب ہوگئے۔

مصطفیٰ کمال نے کہا کہ محب وطن شریف خاندانوں کے بچے عالمی دہشت گرد بن گئے، صولت مرزا کی شاہد حامد سے کوئی دشمنی نہیں تھی۔ عمران فاروق کے قاتلوں کی عمر دیکھیں، الطاف حسین سوچیں کہ ان کی بھی مائیں ہیں، ان کے گھر والوں نے انہیں را کا ایجنٹ نہیں بنایا۔

انہوں پاکستان کے عوام اوراسٹیبلشمنٹ سے اپیل کی کہایک شخص کی وجہ سے پوری اردو بولنے والی کمیونٹی کو نفرت کا نشانہ نا بنایاجائے۔

انہوں نے ایم کیو ایم کے قائد کے گلیوں میں خون بہنے سے متعلق بیان پر مطالبہ کیا کہ ’کس کا خون بہانا چاہتے ہیں اور اگر خون بہانا ہے تو خود واپس آجائیں اورقربانی دیں‘‘۔

 


آج کی پریس کانفرنس بڑی ہلچل والی ہوگی


مصطفیٰ کمال 2005 سے 2010 تک کراچی کے سابق سٹی ناظم رہے ہیں اور2011 میں سینٹ کے ممبربھی منتخب ہوئے تھے اوراگست 2013میں ملک چھوڑںے تک سینٹ کے ممبررہے تھے۔

مصطفیٰ کمال 2005 سے 2010 تک کراچی کے سابق سٹی ناظم رہے ہیں اور2011 میں سینٹ کے ممبربھی منتخب ہوئے تھے اوراگست 2013میں ملک چھوڑںے تک سینٹ کے ممبررہے تھے۔

پریس کانفرنس سے قبل سابق سٹی ناظم مصطفیٰ کمال نے اے آروائی نیوزکے ذرائع سے گفتگو کرتے ہوئے کہاتھا کہ پریس کانفرنس بڑی ہلچل والی ہوگی، اللہ نے جو دماغ میں ڈالا ہے اس کا اعلان کریں گے۔

مصطفیٰ کمال اور انیس قائم خانی آج صبح چار بجےغیر ملکی ایئرلائن کی پرواز ای اے 604 سے کراچی پہنچے تھے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں