The news is by your side.

Advertisement

انگریزوں کا عدن پر بزور قبضہ

محمد مصطفٰی خاں شیفتہؔ اردو ہی نہیں‌ فارسی زبان کے بھی عمدہ شاعر تھے، انھوں‌ نے شاعری کے ساتھ نثر بھی خوب لکھی اور تنقید و تذکرہ کے علاوہ حجازِ مقدس کے اپنے سفر کو بھی صبطِ تحریر میں لائے اور اسے کتابی شکل دی۔ شیفتہ نواب خاندان کے تھے اور مال و روپیہ کی کچھ کمی نہ تھی۔

اردو ادب کے یہ نام ور اور اپنے وقت کے رئیس 1254ھ (1839ء) میں‌ بغرضِ ادائیگیِ فریضۂ حج دلّی سے روانہ ہوئے تھے۔ انھوں‌ نے اپنے اس سفر کا تمام احوال سپردِ قلم کیا ہے۔

یہاں‌ ہم ان کے ‘سفر نامہ حجاز’ سے موجود یمن کے شہر عدن سے متعلق چند سطور نقل کررہے ہیں‌ جس سے آپ کو معلوم ہوگاکہ اس زمانے میں کس طرح انگریزوں نے عدن پر قبضہ کیا تھا اور اس ریاست کے والی سے اس کی زمین کو چھین لیا تھا۔ اگر آپ شیفتہ کے اس سفر کی مکمل روداد پڑھیں تو یہ بھی اندازہ ہو گاکہ آج سہولیات کی وجہ سے حج کتنا آسان ہوگیا ہے، لیکن ایک دور ایسا بھی تھا جب لوگ بہت سی مشکلات جھیل کر اور صعوبتیں برداشت کرکے یہ مقدس فریضہ انجام دیتے تھے۔

سمندری جہاز دلی سے روانہ ہوا تو پروگرام کے مطابق بمبئی پہنچا اور پھر وہاں سے حجاز کے لیے یہ قافلہ آگے بڑھا تھا۔ اس بارے میں شیفتہ کی زبانی جانیے۔

15 شعبان 1255ھ (1840ء) کو ہمارا بادبانی جہاز بمبئی سے روانہ ہوا اور 5 رمضان المبارک کو عدن کی بندرگاہ پر پہنچا۔ عدن میں چند پختہ مکانات کے سوا باقی سب مکانات خس پوش ہیں۔

ہم نے سید زین کے ہاں قیام کیا جو اسی بستی کے سربر آوردہ مشائخ میں سے ہیں، پہلے سے کوئی واقفیت نہ ہونے کے باوجود کمال درجے کی شفقت و محبت سے پیش آئے۔

عدن پر آج کل انگریزوں کی حکومت ہے۔ سات ماہ گزرے انہوں نے سابق حکم راں سے اس شہر کو چھین لیا۔ اس کا سبب یہ ہوا کہ انگلستان کی حکومت کو اپنے دخانی جہازوں کے لیے جو سویز کے راستے لندن آتے جاتے ہیں، ایک ایسا مقام مطلوب تھا جہاں سے سامان، “آب و آتش” آسانی سے فراہم ہو سکے، چناں چہ انہوں نے فرماں روائے عدن کو پیشکش کی کہ عدن کی آمدنی سے زیادہ ہم سے لو اور یہاں کی حکومت ہمارے حوالے کر دو۔

امیرِ عدن ایک ناتجربہ کار سیدھا سادہ آدمی تھا، اس نے نتائج پر غور کیے بغیر معاہدہ لکھ دیا۔ جب انگریزوں نے عدن کا قبضہ مانگا تو اس کی آنکھیں کھلیں۔ قبضہ دینے سے گریز کیا، اس پر انگریزوں نے اس سے لڑائی چھیڑ دی اور عدن پر بزور قبضہ کر لیا۔

جس رقم کا امیر سے وعدہ کیا تھا وہ بھی اسے نہ دی۔ میرے آنے سے ایک دن پہلے ایک جھڑپ ہو بھی چکی ہے۔

عدن کا شہر سمندر کے ساحل سے تین کوس دور ہے، یہ مسافت شہر جانے والے بحری مسافروں کے لیے انتہائی تکلیف کا باعث ہے، کیوں کہ آنے جانے کے لیے خاص انتظام کرنا پڑتا ہے۔ دو رات عدن میں قیام کر کے 7 رمضان کو واپس جہاز پر آئے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں