ہفتہ, اگست 15, 2026
اشتہار

بڑے شاعروں اور ادیبوں نے تمام عمر تنہائی میں کیوں بسر کی؟

اشتہار

حیرت انگیز

یہ ایک عام تاثر ہے کہ کئی بڑے ادیبوں اور بالخصوص شاعروں نے مجرّد زندگی بسر کی اور کبھی شادی نہیں کی۔ یہ درست ہے کہ پاکستان ہی نہیں دنیا بھر میں کئی مشاہیر گزرے ہیں جنھوں نے تنہا زندگی گزاری یا ان کے مکمل حالاتِ زندگی اور ان کے کنبے کے بارے میں تفصیل کسی کو معلوم نہیں۔ اردو ادب میں اسے موضوع بھی بنایا گیا ہے اور اس پر لطائف بھی موجود ہیں۔

یہ ایک ایسی ہی شگفتہ تحریر ہے جو پاکستان کے مشہور فکشن نگار اور مقبول سفرنامہ نویس مستنصر حسین تارڑ کے قلم سے نکلی ہے۔ تارڑ صاحب کا یہ انداز ان کے ادبی کالموں اور دوسری تحریروں میں بھی دیکھا جاسکتا ہے جن میں مزاح کی چاشنی اور لطیف طنز کی آمیزش قاری کو بہت لطف دیتی ہے۔ پیشِ نظر اقتباس ان کی ایک ایسی ہی تحریر سے لیا گیا ہے۔

بہت سے بڑے تخلیق کار شادی شدہ تھے اور اس کے باوجود انہوں نے بڑی شاعری اور عظیم ادب تخلیق کیا لیکن ذرا دیکھیے کہ نہ ہمیں عظیم شاعر ہومر اور نہ ہی شیکسپیئر کی بیوی کا سراغ ملتا ہے۔

غالب اگرچہ شادی شدہ تھے، اُن کی اہلیہ نے اُن پر کیسے کیسے ستم ڈھائے، ٹالسٹائی اپنی بیوی سے فرار ہو کر کسی نامعلوم ریلوے اسٹیشن پر جا کر مر گیا۔ دوستووسکی کے بارے میں بھی کیا کہہ سکتے ہیں کہ اُس کے شادی شدہ ہونے کا کہیں تذکرہ نہیں۔ لارڈ بائرن تو ویسے ہی ایک کھلنڈرا شخص تھا، میر تقی میر کے بارے میں بس کوئی تحقیق کرے کہ کیا وہ اُسی عطار کے لونڈے سے ہی دوا لیتے تھے یا کبھی منکوحہ بھی ہو گئے۔

چند برس پیشتر نیویارک سے کچھ فاصلے پر ٹیری ٹاؤن قصبے میں مشہور امریکی مصنف ارونگ واشنگٹن کا پرانا گھر دیکھنے کا اتفاق ہوا جو دریائے ہڈسن کے کنارے واقع ہے۔ مجھے ارونگ سے لگاؤ اس لیے تھا کہ اس نے ’’الحمرا کی کہانیاں‘‘ نام کی کتاب لکھی جس نے یورپ بھر کو احساس دلایا کہ اُندلس کے شہر غرناطہ کی ایک پہاڑی پر مسلمانوں کے تعمیر کردہ ایک شاہکار قصر کے کھنڈر بکھرے پڑے ہیں اور اس عجوبے کو فنا نہیں ہونا چاہیے چنانچہ اسے بحال کر کے اس کی عظمت کو محفوظ کر لیا گیا۔ ارونگ ایک امریکی سفارت کار کی حیثیت سے غرناطہ تعینات ہوا اور اُس نے الحمرا کے اجڑے ہوئے قصر میں قیام کے دوران 1829ء میں ’’الحمرا کی کہانیاں‘‘ اپنے تصور کے کرشمے سے تخلیق کیں۔ ’’میں نے ٹیری ٹاؤن کے قبرستان سیپسی ہالو میں اس کی قبر بھی دیکھی اور اس کا پرانا مکان بھی دیکھا اور وہاں گائیڈ نے ہمیں بتایا کہ واشنگٹن ارونگ نے بھی کبھی شادی نہ کی اور اس کی بھتیجیاں اس کی دیکھ بھال کرتی تھیں۔

اب یہ محققین کا کام ہے کہ وہ کھوج لگائیں کہ دنیا کے بڑے بڑے شاعروں اور ادیبوں نے آخر شادی سے کیوں گریز کیا۔ تمام عمر تنہائی میں کیوں بسر کی۔ شاید میں آج تک بڑا مصنف نہیں بن سکا کہ میری تو شادی ہو گئی تھی بلکہ کسی حد تک کر دی گئی تھی۔

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں