site
stats
پاکستان

ایم کیو ایم، ملک اور کراچی کی دشمن ہے، مصطفیٰ کمال

کراچی: پاک سرزمین پارٹی کے سربراہ مصطفی کمال نے کہا ہے کہ ایم کیو ایم کراچی اور پاکستان کی دشمن ہے، متحدہ کو دفن کرنے کے لیے کوئی بھی طریقہ اپنانا پڑا اپنائیں گے۔

تفصیلات کے مطابق پاک سرزمین پارٹی مرکزی الیکشن سیل کے افتتاح کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مصطفی کمال نے کہا کہ ایم کیو ایم میری کمیونٹی کی سب سے بڑی دشمن ہے، کوئی تجزیہ اور سازش نہیں صاف الفاظ میں کہتا ہوں ہمیں ایم کیو ایم کو دفن کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جب تک ایم کیو ایم ختم نہیں ہوتی اس ملک کا بھلا نہیں ہوگا، ایم کیو ایم نامی ایکسپائر دوا کو پھینکنا ضروری ہے، نئی پروڈکٹ آگئی ہے، پاک سرزمین پارٹی لوگوں کو جوڑ ہی ہے۔

مصطفی کمال نے کہا کہ ہمارے پاس آنے والے اراکین منحرف اراکین کہلائیں گے، جن کو بات کرنی ہے ہم سے کریں ہمارے پاس اراکین موجود ہیں۔

سربراہ پاک سرزمین پارٹی نے کہا کہ جس دن ڈپٹی میئر ارشد وہرہ ہمارے پاس آئے اگلے دن کونسل کا اجلاس نہیں چل سکا۔

یہ پڑھیں: ارشد وہرہ کو ڈپٹی میئر برقرار رکھ سکتے ہیں، مصطفیٰ کمال

انہوں نے کہا کہ استعفیٰ نہ دینے کے لیے ہمارے پاس عائشہ گلالئی کی مثال موجود ہے، جس دن یہ لوگ استعفیٰ دے دیں گے میں اپنے لوگوں سے استعفیٰ دلاؤں گا۔

فاروق ستار پر ذہنی دباؤ ہے، رضا ہارون

پاک سرزمین پارٹی کے سیکریٹری جنرل رضا ہارون نے کہا کہ فاروق ستار پر ذہنی دباؤ ہے، ان کے دائیں بائیں سے لوگ جارہے ہیں، فاروق ستار کو دیکھ کر عراقی وزیر یاد آتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جب جب شہر کی بدحالی کا رونا رویا جائے گا، ایم کیو ایم کے حوالے دئیے جائیں گے، ایم کیو ایم اب ایک گزری بسری داستان بن چکی ہے، ایم کیو ایم کے پاس اس وقت ایک چھوٹی اور کمزور قیادت ہے۔

عام انتخابات میں مل کے محنت کرنی ہے، ارشد وہرہ

ڈپٹی میئر کراچی ارشد وہرہ نے کہا کہ عام انتخابات میں مل کے محنت کرنی ہے، انشاء اللہ جیت مصطفی کمال اور ان کی ٹیم کی ہوگی۔  یہ میرا پہلا خطاب ہے، شاید دیر بہت کردی میں نے، میری خوش نصیبی ہے کہ اس فورم سے خطاب کررہا ہوں۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top