کئی عشروں کے دوران یوں تو ہر روز ہی فلسطین کے عوام ظلم اور جبر کا شکار ہوتے رہے ہیں، مگر گزشتہ سال اسرائیل کی وحشیانہ بمباری میں فلسطینیوں نے ہزاروں جنازے اٹھائے ہیں، اپنے گھر بار گنوائے ہیں اور آج بھی اپنی جدوجہدِ آزادی کی قیمت چکا رہے ہیں۔
فلسطین کی آزادی کی جنگ لڑنے والوں میں لیلیٰ خالد کا نام سرفہرست ہے۔ لیلیٰ خالد کو فلسطین کی آزادی کے راستے میں اپنے ایک خطرناک مشن کی وجہ سے راتوں رات شہرت ملی تھی۔ انھوں نے 1969ء میں روم سے تل ابیب جانے والا ایک طیارہ اغوا کیا تھا۔ بعد میں وہ گرفتار ہوئیں، جیل گئیں مگر جب رہائی ملی تو ایک بار پھر یہی کیا۔ اسرائیل کے غاصبانہ وجود کو تسلیم کرنے والے ممالک نے نوجوان لیلیٰ خالد کو دہشت گرد کہا لیکن فلسطین کے عوام اور عالمِ اسلام کی نظر میں وہ ایک مجاہد ہیں۔
لیلیٰ خالد کا خاندان 1948ء میں فلسطین سے بے دخلی کے بعد مہاجرین کی حیثیت سے لبنان کے جنوب میں طائر میں آباد ہوگیا تھا۔ حیفا کی رہائشی لیلیٰ خالد نوجوانی کی دہلیز پر قدم رکھ چکی تھیں اور ان کے لیے یہ سب قبول کرنا مشکل تھا۔ انھوں نے اپنے انٹرویوز میں بتایا، ہم ہر چیز سے محروم کر دیے گئے تھے۔ میرا پہلا اسکول خیمے میں تھا۔ مجھے وہاں (طائر میں) کوئی چیز پسند نہ آئی، میں فلسطین سے محروم ہوگئی تھی۔ مجھے یقین دلایا گیا تھا کہ ہمیں اپنے گھروں کو واپس جانا ہے۔ میں نوجوان تھی لیکن میں نے خود سے سوال کیا، ” اس طرح کیوں رہنا پڑ رہا ہے؟ ”میں نے سیاسی معاملات میں اس وقت دل چسپی لینا شروع کی جب میرے بھائی بہن عرب نیشنل موومنٹ میں شامل ہوئے۔ لیلیٰ خالد کے مطابق فلسطین واپس جانا ہمارا خواب تھا۔ 1967ء کی چھے روزہ جنگ میں عرب افواج کی شکست نے ہمیں ہتھیار اٹھانے اور انقلاب برپا کرنے پر مجبور کر دیا۔ وہ بتاتی ہیں کہ جب اے این ایم نے پاپولر فرنٹ برائے آزادی فلسطین (پی ایف ایل پی) قائم کرنے کا فیصلہ کیا تو میں نے اس میں شمولیت اختیار کر لی اور اسرائیلی قبضے کے خلاف جدوجہد شروع کر دی۔
1973ء میں لیلیٰ خالد کی سوانح عمری شایع ہوئی جس میں انھوں نے اپنے بچپن، ہجرت اور اس وقت کے سیاسی حالات اور انقلابی جدوجہد کو سمیٹا ہے۔ اسے دنیا کی کئی زبانوں میں ترجمہ کیا گیا جن میں اردو بھی شامل ہے۔ اردو زبان میں کشور ناہید نے اس آپ بیتی کا ترجمہ ’میرے لوگ زندہ رہیں گے‘ کے نام سے کیا تھا۔ جس سے چند پارے ہم یہاں نقل کررہے ہیں۔ کشور ناہید نے اس کے ابتدائیہ میں لکھا ہے، حیفا کی لیلیٰ خالد کو اپنے آبائی علاقہ اور اپنی زمین سے عشق رہا۔ لیلٰی کی آپ بیتی لیلیٰ نے خود تصنیف نہیں کی، ریکارڈ کرائی۔ لیلیٰ نے بتایا:
"انقلاب کے شعلے کو سرد کرنے کے لیے عرب کے کالے سونے پر اپنے دانت تیز کرنے اور اپنے دفاعی معاملات کو بہتر کرنے کے لیے، اسرائیل کے خالق، روحِ رواں اور محافظ امریکہ نے ۱۹۵۰ء کے اوائل ہی میں، اس علاقے میں نیٹو کی فوجی سرگرمیاں شروع کر دیں۔ ڈلز (John foster dulles) نے مارچ ۱۹۵۳ء میں مشرقِ وسطیٰ کا دورہ کیا۔ امریکہ خود میکارتھزم کا شکار تھا۔ ڈلز کا منصوبہ یہ تھا کہ ہمیں کمیونسٹوں سے بچانے کے لیے، آزاد دنیا کے آزاد باشندے، ساری دنیا سے کہلوا سکے۔ اس لیے ایک طرف نیٹو کی سرگرمیاں تھیں اور دوسری طرف عرب اسرائیل تنازع کو ختم کرانے کی اس طرح کوشش کہ مغربی سامراجی تسلط پورے علاقے میں برقرار رہے۔”
"ڈلز کی اسی کوشش کا جواب ہماری نسل کی جانب سے نفی کی شکل میں تھا۔ تمام طبقے اس بات پر آمادہ تھے کہ ڈلز منصوبے کو ناکام کیا جائے۔ بیروت یونیورسٹی کو مرکز بنایا گیا۔ عرب یوتھ موومنٹ کے نام سے جدوجہدِ آزادی کا آغاز نوجوانوں نے کیا۔ یہ نوجوان مسلح فوجیوں کی تنظیمی قطار توڑ کر آگے بڑھے اور سامراجیت مردہ باد کے نعرے لگاتے، ڈلز کی جانب بڑھنے لگے۔ اب تو ہر قسم کی قوت حرکت میں آگئی۔ درجنوں طلباء کو پکڑ لیا گیا اور سیکڑوں طلباء کو گھوڑوں کی ٹاپوں کے نیچے کچل دیا گیا۔ میرا بھائی محمد بھی مظاہرہ کرنے والوں میں شامل تھا۔ واپس گھر آیا تو مظاہرے کا پورا احوال سنایا۔”
"سارے ملک میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی۔ ہمارے اپنے سپاہیوں نے اپنے جوانوں کو روند ڈالا تھا۔ جلتی پر تیل کا کام، بیروت یونیورسٹی میں حسن ابواسمٰعیل کے قتل کی شکل میں ہوا۔ اب لوگوں کو امریکی اشتراک اور بغداد پیکٹ کا مطلب سمجھ میں آیا۔ یہ تو ہم لوگوں کو مزید اسیر کرنے کے لیے بغداد پیکٹ کی صورت میں مکڑی کا جال ہمارے اوپر تان رہے تھے۔ حسن کا قتل تو اور بھی بہیمانہ تھا کہ اوّل قتل بیروت یونیورسٹی کے سامنے ہوا دوسرے یہ کہ ہر یونیورسٹی کی انتظامیہ نے صرف احتجاج بھی رجسٹر کرنے سے انکار کر دیا۔ اب لوگوں پر مغربی جمہوری اداروں کی اصلیت اور ان کی سیاسی غائت بھی واضح ہونی شروع ہوگئی تھی۔”
"پچاسویں دہائی کا یہ ڈرامہ اپنے عروج پر تو سوئیز کی جنگ یعنی ۱۹۵۶ ء میں جا کر پہنچا۔ برطانیہ اور فرانس نے اسرائیل کی مدد سے مصر پر حملہ اس لیے کیا کہ ناصر کو معزول کر کے، عربوں پر ایک بظاہر امن منصوبہ تھوپ دیا جائے۔ ۲۵مئی ۱۹۵۰ء کا وہ اعلامیہ کہ جس میں تین بڑی طاقتوں برطانیہ، فرانس اور امریکہ نے مشرق وسطیٰ کے ممالک کی سیاسی اور علاقائی سلامتی کی ضمانت دی تھی اور یہ بھی اعلان کیا تھا کہ اگر کسی پر کوئی آفت، حملہ یا مصیبت آئی تو اس کی مدد بھی کی جائے گی۔ اس اعلامیہ کی صریحاً خلاف ورزی تو دو بڑی طاقتیں برطانیہ اور فرانس براہِ راست اور امریکہ بحوالہ اسرائیل کر رہے تھے۔ ان دو عملیوں کی وجہ سے سارے عرب ممالک، امریکی مرغی کے پروں تلے چھپنے والے چوزے نہیں بن سکے۔ بلکہ واضح تفریق ہونے لگی۔ ناصر کی جانب جھکاؤ رکھنے والے قومی خود مختاری اور نیشنلسٹ اور نوری کے بغداد کی سمت جھکاؤ رکھنے والے، انقلاب دشمن قرار دیے جانے لگے۔”
"ہم سب کے سب ڈلز، ایک، میکمیلن، بن گوریون اور موشے دایان کے شکر گزار ہیں کہ ان کی سازشوں کے باعث ہی ہم سیاسی طور پر بیدار ہو سکے، ان کی دوغلی اور دو رخی پالیسیوں نے ہمیں سماجی بنیاد تلاش کرنے پر مجبور کیا۔ اب عربوں کو اپنے اندر کے دشمنوں اور دوستوں میں امتیاز کرنے کا ہنر اور اپنے باہر کے دشمنوں اور دوستوں سے سلوک روا رکھنے کا سلیقہ بھی آگیا تھا۔”
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


