The news is by your side.

Advertisement

میرا ووٹ پیپلزپارٹی کے امیدوار کا ہوگا، آغا سراج درانی

کراچی : اسپیکر صوبائی اسمبلی آغا سراج درانی نے کہا ہے کہ پارٹی قیادت پر مکمل اعتماد ہے میرا ووٹ پیپلزپارٹی کے امیدوار کا ہی ہوگا۔

تفصیلات کے مطابق سندھ اسمبلی کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے آغا سراج درانی کا کہنا تھا کہ ’’کل تین بجے سندھ اسمبلی میں قائد ایوان کا انتخابات منعقد کیا جائے گا اور نامزد امیدواران کی فہرست آویزاں کی جائے گی۔

انہوں نے مزید کہا کہ ’’قائد ایوان کے امیدوار کے لیے نامزدگی فارم جمع کروانے کا وقت آج شام تک ہے جس کے بعد اسکروٹنی کی جائے گی اور پھر امیدوار کو الیکشن لڑنے کی اجازت دی جائے گی۔ سراج درانی نے بتایا کہ ’’وزیر اعلیٰ کے انتخابات میں تمام قانونی تقاضے پورے کیے جارہے ہیں ہم جمہوری لوگ ہیں اور جمہوریت پر یقین رکھتے ہیں۔

پڑھیں :                     بلاول بھٹو نے مراد علی شاہ کو وزیر اعلیٰ سندھ بنانے کا اعلان کردیا

اسپیکر اسمبلی نے بتایا کہ’’ کل قائد ایوان کے انتخابات کے حوالے سے تمام اسمبلی ممبران شرکت کریں گے تاہم رؤف صدیقی کو کل اسمبلی میں پیش کرنے کے لیے  وزارت جیل خانہ جات اور آئی جی جیل خانہ جات کو خط لکھ دیا گیا ہے‘‘۔

یہ بھی پڑھیں :       بھولنے کی عادت برقرار،قائم علی شاہ کے استعفیٰ میں تحریری غلطی

ایک سوال کے جواب میں آغا سراج درانی نے کہا کہ ’’قائد ایوان کا انتخاب لڑنا ہر شخص کا جمہوری حق ہے، جو بھی جماعت چاہیے اپنا امیدوار سامنے لے آئے ممبرانِ اسمبلی جسے بہتر سمجھیں گے اُسے اپنا ووٹ دے دیں گے‘‘۔

اسے پڑھیں :       گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد نے قائم علی شاہ کا استعفیٰ منظور کرلیا

ایم کیو ایم سے پوچھے گیے سوال کے جواب میں آغا سراج درانی نے کہا کہ ’’میرا ایم کیو ایم سے 24 گھنٹے رابطہ رہتا ہے، سندھ کی ترقی کے لیے تمام جماعتوں کو ایک ساتھ مل کر چلنا ہوگا‘‘۔

یاد رہے وزیر اعلیٰ سندھ کے لیے پیپلزپارٹی کی جانب مراد علی شاہ کو امیدوار نامزد کیا گیا ہے جنہیں اپوزیشن جماعت مسلم لیگ فنکشنل اور حکمراں جماعت مسلم لیگ ن کی خاموش حمایت حاصل ہے جبکہ تحریک انصاف کی جانب سے خرم شیر زمان نے بھی قائد ایوان کے لیے کاغذاتِ نامزدگی جمع کروائے ہیں۔

اپوزیشن کی سب سے بڑی جماعت ایم کیو ایم کی جانب سے تاحال کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا جبکہ پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ موجودہ صورتحال کے حوالے سے سندھ حکومت کے سامنے تحفظات کا اظہار کیا جائے گا۔

 

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں