myanmar-crisis میانمارکا مستقل حل ایسٹ تیمورکی طرزپرتلاش کرنا ہوگا، فیصل محمد
The news is by your side.

Advertisement

میانمارکا مستقل حل ایسٹ تیمورکی طرزپرتلاش کرنا ہوگا، فیصل محمد

جینوا : میانمار میں بے گناہ مسلمانوں کا قتل عام پوری عالم انسانیت کے لیے ایک لمحہ فکریہ بن چکا ہے اس کے فوری خاتمہ اور مستقل حل کیلے اقوام متحدہ اور عالمی اداروں کو فوری نوٹس لینا ہوگا۔

ان خیالات کا اظہار بین الالقوامی تنازعات میں ثالثی کے ماہرعالمی مصالحت کار فیصل محمد نے اے آر وائی نیوزکے نمائندے صلاح الدین سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

انہوں نے کہا کہ میانمار کا مسلئہ بھی ایک طویل عرصے سے حل طلب ہے تاہم اس پر توجہ نہ دینے کی وجہ سے اب یہ انتہائی خطرناک صورتحال اختیار کرچکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ عالمی برادری اور اقوام متحدہ کو چاہئیے کہ وہ بے گناہ مسلمانوں کے قتل عام کو فوری طور پر روکنے کیلئے جلد اور ٹھوس اقدامات اٹھائے۔

انہوں نے میانمار کی حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ برما کی حکومت صرف مذہبی بنیادوں پر انہیں اپنا شہری تسلیم نہیں کرتی جبکہ وہ اسی سرزمین کے وارث ہیں، لہذا فی الوقت یہ ضروری ہوگیا ہے کہ اقوام متحدہ دارفور اور ایسٹ تیمور کی طرز کے فارمولے پر عملدرآمد کرتے ہوئے اس مسئلے کا مستقل حل تلاش کرے۔

واضح رہے کہ ایسٹ تیمور اور دارفور کی ریاستوں کا قیام بھی عیسائی اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کی خاطر عمل میں لایا گیا تھا۔

یاد رہے کہ میانمار کی فوج کے ظلم کے بعد بنگلہ دیش ہجرت کرنے والے روہنگیا مسلمانوں کی تعداد تین لاکھ سے زائد ہوچکی ہے۔ کیمپوں میں کھانے پینے کی قلت ہے کئی لوگ ایسے ہیں جنہوں نے کئی دن سے کچھ نہیں کھایا۔

میانماری فوج کے ہاتھوں اب تک چار سو سے زائد روہنگیا مسلمان قتل ہوئے، سیکڑوں گھرجلائے گئے۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق آسٹریلیا نے امداد کی مد میں چار ملین ڈالر دینے کا اعلان کیا ہے ۔جبکہ ملائیشیا کی جانب سے امدادی سامان سے بھرا جہاز روانہ ہوچکا ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں