میانمار میں 11 ہزار قیراط وزنی نایاب یاقوت دریافت کیا گیا ہے، جسے ملکی تاریخ میں وزن کے اعتبار سے دوسرا بڑا یاقوت قرار دیا جا رہا ہے۔
سرکاری میڈیا رپورٹ کے مطابق یہ قیمتی پتھر گزشتہ ماہ کے وسط میں بالائی علاقے میں واقع شہر موگوک کے قریب دریافت ہوا، جو میانمار کی قیمتی پتھروں کی صنعت کا اہم مرکز سمجھا جاتا ہے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس یاقوت کا وزن تقریباً 4.8 پاؤنڈ (تقریباً 2.2 کلوگرام) ہے، اگرچہ یہ 1996 میں دریافت ہونے والے 21 ہزار 450 قیراط کے یاقوت سے وزن میں چھوٹا ہے، تاہم ماہرین کے مطابق اس نئے پتھر کی رنگت اور معیار زیادہ بہتر ہونے کے باعث اس کی قدر کہیں زیادہ ہے۔
یاقوت کی رنگت جامنی مائل سرخ بتائی گئی ہے جس میں ہلکے زرد رنگ کی جھلک بھی موجود ہے۔ ماہرین کے مطابق اس میں درمیانی شفافیت اور انتہائی چمکدار سطح پائی جاتی ہے، جو اسے غیر معمولی اہمیت دیتی ہے۔
انسانی حقوق کی تنظیموں اور برطانیہ میں قائم تنظیم گلوبل وٹنیس نے عالمی جیولرز پر زور دیا ہے کہ وہ میانمار سے حاصل ہونے والے قیمتی پتھر خریدنے سے گریز کریں، کیونکہ یہ صنعت کئی دہائیوں سے فوجی حکومتوں کی آمدنی کا بڑا ذریعہ رہی ہے۔
رپورٹ کے مطابق حالیہ برسوں میں خانہ جنگی اور نسلی مسلح گروہوں کی سرگرمیوں کے باعث ان معدنی علاقوں کی صورتحال غیر مستحکم رہی ہے۔ شہر موگوک پر 2024 میں تانگ نیشنل لبریشن آرمی نے قبضہ کر لیا تھا، تاہم بعد ازاں چین کی ثالثی میں ہونے والے جنگ بندی معاہدے کے تحت کانوں کا کنٹرول دوبارہ میانمار کی فوج کے حوالے کر دیا گیا۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


