The news is by your side.

Advertisement

وہ پراسرار گاؤں، جہاں کے باسی کئی دن سوئے رہے

الماتے: وسطی ایشیا کے ملک قازقستان کے ایک دیہات کے باسیوں کو نیند کی عجیب اور پراسرار بیماری کا سامنا ہے۔

تفصیلات کے مطابق قازقستان کے صوبے اقمولا کا ایک بدقسمت دیہات ہے، جس کی آبادی کا بڑا حصہ نیند کی پراسر بیماری میں مبتلا ہے، اس علاقے کے باشندے اپنی روز مرہ کی سرگرمیاں انجام دیتے ہوئے اچانک نیند کی لپیٹ میں‌ آجاتے ہیں۔

اپریل دو ہزار دس میں پر اسرار بیماری کا پہلا کیس رپورٹ ہواتھا تاہم دو ہزار تیرہ سے اس گاؤں کے باشندے پراسرار طور پر زیادہ سونے لگے، نیند کا یہ غلبہ اتنا زیادہ ہوتا ہے کہ بعض دفعہ تو لوگ ہفتوں سوتے رہتے۔

اس عجیب و غریب نیند سے بچے، جوان اور بوڑھے سبھی متاثر ہوتے ہیں، اسکول میں پڑھنے والے بچے بھی کلاس کے دوران سو جاتےہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ لوگوں پر نیند کا غلبہ چھانے کا کوئی وقت مقرر نہیں، لوگ دن یا رات کسی بھی وقت سو سکتے ہیں، حیرت انگیز طور پر جب لوگ نیند سے جاگتے ہیں تو انہیں کچھ یاد بھی نہیں ہوتا، انسانوں کے ساتھ ساتھ جانور بھی اس عجیب و غریب مظہر سے محفوظ نہیں۔

سائنسدانوں نے جب اس حوالے سے تحقیق کی تو انہیں معلوم ہوا کہ گاؤں کے قریب یورینیم کی کانیں اس بیماری کی وجہ بن رہی ہیں، ان کانوں کو اب بند کر دیا گیا ہے، تحقیق کی گئی تو پتہ چلا کہ اس بیماری کی وجہ کانوں سے نکلنے والی تابکاری نہیں بلکہ بڑی مقدار میں کاربن مونو آکسائیڈ کا اخراج ہے۔

کاربن مونو آکسائیڈ کے اخراج کے باعث ہوا میں آکسیجن کی مقدار کم ہوجاتی ہے جو زیادہ سونے کی وجہ بنتی ہے۔2015 میں اس گاؤں کی آدھی آبادی انہی خدشات کے باعث دوسرے مقامات پر منتقل ہوگئی جبکہ آدھے افراد نے گاؤں چھوڑنے سے انکار کر دیا تھا۔

حیرت انگیز بات یہ ہے کہ بے خوابی والے شہر سے نقل مکانی کرنے والوں کے طبی معائنے بھی بالکل ٹھیک نکلے اور بیماری کی بظاہر کوئی وجہ سامنے نہیں آئی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں