ہفتہ, جون 13, 2026
اشتہار

ویڈیو: آسمان پر عجیب و غریب منظر دیکھ کر لوگ حیران

اشتہار

حیرت انگیز

کینیڈا کے صوبے برٹش کولمبیا کے رہائشی آسمان پر عجیب و غریب منظر دیکھ کر حیران رہ گئے۔

نیویارک پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق کینیڈا کے رہائشیوں نے گزشتہ رات آسمان پر پراسرار روشنی کو آہستہ آہستہ حرکت کرتے ہوئے دیکھا اور اس پراسرار روشنی نے شہریوں میں کھلبلی مچادی۔

لوگوں کو یہ خوف لاحق ہوگیا کہ یہ کوئی ’یو ایف او‘ ہے یا اس سے بھی زیادہ کوئی خطرناک چیز ہے تاہم ماہرین فلکیات نے اس کی حقیقت سے پردہ اٹھا دیا۔

منگل کی رات بحرالکاہل کے وقت کے مطابق رات 10 بجکر 15 منٹ سے 10 بجکر 30 منٹ کے درمیان ولیمز لیک، پرنس جارج اور فورٹ سینٹ جان کے علاقوں سے عجیب و غریب روشنی کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی۔

ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ روشنی آسمان پر حرکت کررہی ہے اور پھر وہ غائب ہوگئی۔

عینی شاہدین نے بتایا کہ یہ روشنی فاصلے پر جاتے ہوئے بکھرتی ہوئی محسوس ہوئی اور بعد میں نظروں سے اوجھل ہوگئی۔

سوشل میڈیا پر لوگوں نے مختلف قیاس آرائیاں کیں، کسی نے اسے بھٹکا ہوا موسمی غبارہ قرار دیا تو کسی نے اسے دوسری دنیا کی مخلوق سے جوڑا، جبکہ منظر سینکڑوں کلو میٹر کے فاصلے تک دیکھا گیا۔

ماہرین کی وضاحت

بالآخر ماہرین نے انکشاف کیا کہ یہ واقعہ اسپیس ایکس کی وجہ سے پیش آیا ہےم پرنس جارج ایسٹرونومیکل آبزرویٹری سے وابستہ ملہار کیندورکر نے سی بی سی ریڈیو کو بتایا کہ انہوں نے خود یہ منظر دیکھا اور انہیں یقین تھا کہ یہ روشنی "جیلی فش ایفیکٹ”  تھی۔

یہ دراصل کیلیفورنیا کے وانڈنبرگ اسپیس فورس بیس سے رات 9 بجے لانچ کیے گئے فالکن 9 راکٹ کا نتیجہ تھا۔

یہ روشنی کیسے بنی؟

راکٹ کا اخراج: لانچ کے بعد جب راکٹ کا دوسرا مرحلہ  فضا کی بلندیوں پر پہنچا تو اس کا دھواں خلاء میں پھیل گیا، جس سے بادل نما لہر پیدا ہوئی۔

سورج کی روشنی کا عکس: یہ مخروطی شکل اس وقت بنتی ہے جب راکٹ سے نکلنے والے دھوئیں پر غروبِ آفتاب کے کافی دیر بعد بھی سورج کی روشنی پڑتی ہے، اس مظہر کو عام طور پر "جیلی فش” یا "ٹویلائٹ (شفق) ایفیکٹ” کہا جاتا ہے۔

وینکوور کے ایچ آر میک ملن اسپیس سینٹر کے ڈائریکٹر مائیکل انگر نے تصدیق کی کہ یہ کوئی قدرتی واقعہ جیسے کہ بادل یا شہاب ثاقب نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ یہ یقینی طور پر کنٹرولڈ لگ رہا تھا۔ ایسی چیزیں اب ہمارے معاشرے میں عام ہوتی جا رہی ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ میرا خیال ہے کہ جب ایسے واقعات رونما ہوتے ہیں تو یہ ہمارے اندر وہ تجسس پیدا کرتے ہیں جو ہمیں یاد دلاتا ہے کہ آسمان میں بہت کچھ ایسا ہے جو ہم سے اوجھل ہے اور جس کے بارے میں ہم نہیں جانتے۔

+ posts

اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں