The news is by your side.

پینتیسویں قسط: پُر اسرار ہیروں والی گیند اور دہشت بھری دنیا

پہلی کتاب: آتشی پتھر...........باب: کنگ دوگان کا وارث

نوٹ: یہ طویل ناول انگریزی سے ماخوذ ہے، تاہم اس میں کردار، مکالموں اور واقعات میں قابل ذکر تبدیلی کی گئی ہے، یہ نہایت سنسنی خیز ، پُر تجسس، اور معلومات سے بھرپور ناول ہے، جو 12 کتابی حصوں پر مشتمل ہے، جسے پہلی بار اے آر وائی نیوز کے قارئین کے لیے پیش کیا جا رہا ہے۔

پچھلی اقساط پڑھنے کے لیے کلک کریں

اسٹور روم میں ڈریٹن تمام صندوقوں کو چھان مار رہا تھا۔ ایک صندوق سے پرانے کپڑے باہر پھینکتے ہوئے اس نے چیخ کر کہا: ’’اُف یہ کیا گندگی ہے، پتا نہیں کیسی عورت ہے یہ۔ اب یہ کپڑے یہاں رکھنے کی کیا ضرورت ہے۔ اس نے خالی صندوق کمرے کے ایک طرف پھینک دیے۔ وہ جس چیز کی تلاش میں تھا، اسے ڈھونڈنے میں ناکامی پر اس کا غصہ ساتویں آسمان کو چھونے لگا تھا۔ بالآخر اسے ایک پرانے پیانو کے پیچھے گتے کا ایک ڈبا نظر آ گیا جس میں کتابیں اور کاغذات پڑے تھے۔

’’آخرکار یہ میرے ہاتھ لگ ہی گیا۔‘‘ اس نے خوش ہو کر کہا۔ کمرے میں ساری چیزیں اسی طرح بکھری ہوئی چھوڑ کر وہ اپنے کمرے میں چلا گیا۔ میز کے سامنے کرسی پر بیٹھتے ہی اس نے ایک قدیم کتاب نکال لی۔ اپنا ایک بازو جھاڑو کی طرح میز پر پھیر کر اس نے تمام اشیا فرش پر گرا دیں اور کتاب میز پر رکھ کر پہلا صفحہ کھولا، اور پھر بلند آواز سے پڑھنے لگا: ’’کنگ دوگان کی تاریخ: تصنیف ٹالون ہارمڈن۔‘‘

اس کے بعد تین گھنٹوں پر ڈریٹن محو ہو کر یہ کتاب پڑھتا چلا گیا۔ جس میں لکھا تھا کہ کنگ دوگان نے بادشاہ کیگان کی دو بیٹیاں شہزادی ازابیلا اور شہزادی آنا کو اغوا کیا۔ دوگان نے ازابیلا سے زبردستی شادی کی، ان کے ہاں ہیگر نامی بیٹا پیدا ہوا۔ دوگان نے ان دونوں بہنوں کو اپنی سلطنت سے دور رکھا اور بیٹا اپنے پاس رکھ لیا۔ ازابیلا نے قسم کھائی کہ وہ ایک دن بچہ چھیننے کا انتقام ضرور لے گی۔ ہیگر ایک ایسا بچہ تھا جس کا تعلق دوگان اور کیگان دونوں سلطنتوں سے تھا۔ جب دوگان مر گیا تو اس نے وہ بارہ ہیروں والا نیکلس پہن لیا جسے کیگان کی سلطنت سے چرا کر لایا گیا تھا۔ ہیگر دوگان کا ایک ہی بچہ تھا، اس لیے وہ ہی تخت کا وارث ٹھہرا۔ ازابیلا اور آنا بعد میں اپنے والد کی سلطنت لوٹ گئی تھیں لیکن وہ دنیا میں نہیں رہا تھا۔

ڈریٹن پڑھتے پڑھتے پُر جوش ہو گیا تھا۔ ’’ڈیڈ نے بھی کیسی کیسی چیزیں چھپا کر رکھی ہیں۔‘‘ وہ بڑبڑایا۔ پھر اس نے صفحہ پلتا اور آگے پڑھنے لگا: ’’ہیگر اور اس کی آنے والی نسلوں نے ملک زناد پر تین صدیوں تک حکومت کی اور پھر اس خاندان میں لڑکوں کی پیدائش رک گئی۔ چناں چہ تخت کی وراثت بیٹیوں اور ان کی بیٹیوں کو منتقل ہو گئی۔‘‘

کتاب کا آخری صفحہ پڑھنے کے بعد ڈریٹن نے کرسی کی پشت سے ٹیک لگا لی اور گہری سانس لی۔ ’’تو میں بادشاہ دوگان اور شہزادی ازابیلا کا وارث ہوں۔‘‘ اس نے کتاب بند کر دی اور اپنی ماں کے کمرے میں چلا گیا۔ اس نے الماری کھولی اور ماں کی چیزیں باہر پھینک کر ان کا سوٹ کیس نکال لیا۔ سوٹ کیس خالی تھا لیکن تھا بہت بھاری۔ وہ سوٹ کیس اپنے کمرے میں لے گیا اور جو چیزیں اس نے اپنے لیے کارآمد سمجھیں، اٹھا کر سوٹ کیس میں ٹھونس دیں۔ پھر گلے میں نیکلس ڈال کر سیڑھیاں اترنے لگا۔

’’کہاں جا رہے ہو ڈریٹن؟‘‘ ماں کی آواز اس کی سماعت سے ٹکرائی۔ اس نے مڑ کر آگ بگولا ہو کر کہا: ’’چپ رہو تم، میں یہ گھر چھوڑ کر جا رہا ہوں۔ تم آئندہ میری شکل نہیں دیکھ سکو گی۔‘‘

’’تمھیں صندوق میں کیا ملا؟‘‘ پینی لوپ نے بیٹے کی سخت بات بھی نظر انداز کر کے پوچھ لیا، وہ یہ پوچھنے سے خود کو نہ روک سکی تھیں۔

’’مجھے پتا چلا ہے کہ میں بادشاہوں کی اولاد ہوں۔ میرا ڈیڈ بھی بادشاہوں کی اولاد تھا لیکن تم نہیں۔ میں اپنے آبا و اجداد کے خزانے کا مستحق ہوں، اس لیے اسکاٹ لینڈ جا رہا ہوں، تم بھی وہاں کی ہو نا … کیا نام ہے اس گھٹیا سی جگہ کا نام جہاں تم پیدا ہوئی؟‘‘

’’گیل ٹے۔ میری ایک بہن بھی وہاں رہتی ہے۔‘‘ پینی لوپ نے جواب دیا۔

’’گیل ٹے تو ہائی لینڈز ہی میں کہیں ہے نا؟‘‘ ڈریٹن نے پوچھا، جس پر پینی لوپ نے اثبات میں سر ہلا دیا۔ ڈریٹن نے ان کی بہن کے بارے میں بھی بدتمیزی شروع کر دی: ’’مجھے تمھاری اس موٹی بدشکل بہن سے کوئی دل چسپی نہیں ہے، میں بس خزانے کے لیے جا رہا ہوں۔‘‘ یہ کہہ کر اس نے دروازہ کھولا اور نکل گیا۔ پینی لوپ نے اس کی موٹر سائیکل کی آواز سنی اور دکھ سے سوچا: ’’کیسا خزانہ!‘‘

دوپہر کے وقت ریل گاڑی اسٹیشن سے نکلی۔ اگلی صبح کو اسے ایڈن برگ پہنچنا تھا۔ ڈریٹن نے اپنے سونے کا کیبن تلاش کر کے بیگ طاق میں پھینکا اور سوٹ کیس سے کتاب نکال کر دوگان کے شیطان جادوگر اور اس کی طاقتوں کے بارے میں پڑھنے لگا:

’’چوں کہ ہیگر کی رگوں میں دو خاندانوں کا خون دوڑ رہا تھا اس لیے اس کے پاس خصوصی طاقتیں تھیں۔ یہ شیطانی قوتیں بہت خطرناک تھیں۔ وہ اچھائی اور برائی دونوں کا جادو کر سکتا تھا۔‘‘

ڈریٹن دل چسپی سے کتاب بلند آواز میں پڑھنے لگا۔ اس نے جادوئی گیند کے بارے میں بھی پڑھا۔ اس نے خود کلامی کی: ’’تو دوگان کی طاقتوں کے ساتھ ساتھ میں کیگان کے جادوئی گولے کی بارہ طاقتوں کا بھی حق دار ہوں۔‘‘

اس کی آنکھوں میں سیاہی مائل شعلے چمک اٹھے۔ ’’جب میں اسے اپنے قبضے میں لے لوں گا اور منتر پڑھوں گا تو شیطان جادوگر پہلان کو ماضی کی تاریکیوں سے طلب کر سکوں گا، اور پھر اس سے یہ بھی سیکھ لوں گا کہ ان طاقتوں کو کیسے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اس کے لیے سب سے پہلے جادوئی گولا اور بارہ قیمتی پتھر حاصل کرنا ضروری ہے۔ اور اسے پانے کی صرف ایک جگہ ہے … گیل ٹے … اسکاٹ لینڈ میں واقع قلعہ آذر! واہ کتنی دل چسپ بات ہے۔ میری ماں بھی اسی گاؤں کی ہے جہاں قلعہ واقع ہے۔ مجھے توقع ہے کہ مجھ سے پہلے اسے کسی اور نے نہیں پایا ہوگا۔‘‘

اس کے چہرے پر شیطانی مسکراہٹ نمودار ہو گئی۔ ’’سب سے پہلے تو میں اپنی پیاری ماں کو مینڈک بنا کر اسے مگرمچھوں کے تالاب میں پھینک دوں گا، کیوں کہ وہ ایک بے کار شے ہے۔‘‘

ڈریٹن تب تک مطالعہ کرتا رہا، جب تک نیند اس پر غالب نہیں آ گئی، اور وہ اس عالم میں سو گیا کہ ایک ہاتھ میں کتاب تھی اور دوسرا ہاتھ سختی سے نیکلس پر جما ہوا تھا۔

(جاری ہے…)

Comments

یہ بھی پڑھیں