The news is by your side.

Advertisement

پراسرار برمودا ٹرائی اینگل میں حیرت انگیز جزیرہ ابھر آیا

جنوبی کیرولینا: برسوں سے پراسراریت کی دھند میں لپٹے اور بحری اور ہوائی جہازوں کو نگل لینے والے برمودا ٹرائی اینگل میں غیر معمولی طور پر جزیرہ ابھر آیا۔ حکام نے لوگوں کے وہاں جانے پر پابندی عائد کردی۔

برمودا تکون جسے شیطانی تکون بھی کہا جاتا ہے بحر اوقیانوس میں واقع سمندر کا ایک مخصوص حصہ ہے۔ اس علاقے کا ایک کونا برمودا، دوسرا پورٹوریکو اور تیسرا میلبورن سے متصل ہے اور ان تینوں کونوں کے درمیانی حصے کو برمودا تکون یا مثلث کہا جاتا ہے۔

برمودا تکون گزشتہ طویل عرصے سے دنیا کے لیے اسرار کے دبیز پردوں میں لپٹی ہے۔

یہاں بے شمار بحری جہازوں کی گمشدگی کے واقعات پیش آچکے ہیں جنہیں ڈھونڈنے کے لیے جانے والے بحری و ہوائی جہاز بھی ایسے کھوئے کہ تمام تر ٹیکنالوجی کے استعمال کے باوجود آج تک ان کا سراغ نہ مل سکا۔

مزید پڑھیں: برمودا ٹرائی اینگل کی حقیقت کیا ہے؟

یہ جہاز اور ان پر موجود افراد کہاں گئے، کیا اس تکون سے گزر کر وہ کسی دوسری دنیا میں پہنچ گئے، یا کسی شیطانی قوت نے انہیں دنیا کی نظروں سے پوشیدہ کردیا، یہ وہ افسانے ہیں جنہوں نے اس تکون کو خوف اور اسرار سے منسوب کردیا ہے۔

تاہم اب اس تکون کے اسرار میں مزید اضافہ ہوگیا جب اچانک یہاں سے ایک جزیرہ ابھر آیا ہے۔

جنوبی کیرولینا کے ساحل کے ساتھ ابھرنے والے اس جزیرے کو مقامی افراد نے شیلی یا سیپیائی جزیرے کا نام دیا ہے کیونکہ یہاں لاتعداد سیپیاں بکھری ہوئی ہیں۔

ان کے مطابق یہ جزیرہ گزشتہ 2 سے 3 ماہ میں ابھرنا شروع ہوا ہے۔

ابتدا میں لوگوں کی بڑی تعداد نے یہاں جانا شروع کردیا تاہم جلد ہی حکومت نے یہاں لوگوں کا داخلہ ممنوع قرار دے دیا۔

اس کی وجہ یہاں پائی جانے والی شارکس ہیں جو لوگوں کی ہلاکت کا سبب بن سکتی ہیں۔

جزیرے کے مقام والا بحر اوقیانوس کا یہ حصہ خطرناک شارک مچھلیوں سے بھرا پڑا ہے اور حکومت کے مطابق اگر یہاں لوگوں کی آمد و رفت پر پابندی نہ عائد کی جاتی تو کوئی بڑا سانحہ رونما ہوسکتا تھا۔

علاوہ ازیں نئے ابھرنے والے جزیرے کی زمین اور ساحل کی زمین کے درمیان زیر زمین کرنٹ بھی موجود ہیں جو خطرناک ثابت ہوسکتے ہیں۔

فی الحال اس جزیرے کا مستقبل واضح نہیں کہ آیا یہ جزیرہ بڑھ کر مستقل جگہ حاصل کرلے گا، یا کچھ عرصے بعد غائب ہوجائے گا۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں