The news is by your side.

Advertisement

این اے 122 دھاندلی کیس، فیصلہ میں مزید تاخیر ،4 بجے سنایا جائے گا

لاہور: این اے ایک سو بائیس میں مبینہ دھاندلی کیس کا فیصلہ مزید تاخیر کے بعد 4 بجے سنایا جائے گا، الیکشن ٹربیونل لاہور کے جج کاظم علی نے سیکیورٹی سخت کرنے کے احکامات بھی جاری کر دیئے۔

الیکشن ٹریبونل لاہور کے جج کاظم علی ملک نے 17 اگست این اے ایک سو بائیس میں مبینہ دھاندلی کیس کی سماعت کی اور مبینہ دھاندلی کیس کا فیصلہ محفوظ کر لیا تھا، جوکچھ دیر  بعد سنائے جانے کا امکان ہے۔

 پنجاب الیکشن کمیشن دفتر کی حدود میں سخت سیکیورٹی انتظامات کیے گئے ہیں اور فیصلہ کے وقت عمارت کےاندر فریقین کے وکلاء کےعلاوہ کسی کو داخلے کی اجازت نہیں ہوگی۔

لاہور میں الیکشن کمیشن کے باہر ن لیگ اور پی ٹی آئی کارکن آمنے سامنے آگئے، ایک دوسرے کے قائدین کے خلاف نعرے بازی بھی کی۔

این اے ایک سو بائیس مبینہ دھاندلی کیس میں عمران خان کے وکیل انیس ہاشمی کاکہنا ہے کہ الیکشن کسی بھی طرح آئین کے مطابق نہیں ہوا، عدالت نے فیصلہ کرنا ہے کہ دھاندلی ہوئی یا نہیں۔ اگر فیصلہ خلاف آیا توسپریم کورٹ جانے کا راستہ کھلا ہے۔

این اے ایک سو بائیس مبینہ دھاندلی کیس میں اسپیکرقومی اسمبلی ایاز صادق کے وکیل اسجد سعید کا کہنا ہے کہ امید ہے فیصلہ میرٹ پرآئے گا، فیصلہ ہمارے خلاف آیاتوقانونی طور پر غلط ہوگا، جسے چیلنج کریں گے۔

یاد رہے کہ این اے ایک سو بائیس پر چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے اسپیکر قومی اسمبلی سردارایازصادق کے خلاف انتخابی دھاندلی کی درخواست دائر کررکھی ہے، عام انتخابات میں مسلم لیگ ن کے امیدوار ایاز صادق قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 122 سے 93 ہزار 389 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے تھے، انھوں نے پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کو ہرایا تھا جنھوں نے 84517 ووٹ حاصل کیے تھے۔

تحریک انصاف نے دھاندلی کا الزام عائد کرتے ہوئے الیکشن ٹریبونل میں نتیجہ چیلنج کردیا تھا، جولائی دو ہزار تیرہ میں سماعت شروع ہوئی تو ایاز صادق حکم امتناعی لے آئے نومبر دوہزار چودہ میں حکم امتناعی کے ختم ہونے پر جٹس غلام حسین اعوان کی سربراہی میں کمیشن قائم کر دیا گیا، دسمبردوہزار چودہ کو الیکشن ٹریبونل نے ووٹوں کے تھیلے کھولنے اور اُن کی جانچ پڑتال کاحکم دیا۔

جنوری دو ہزار پندرہ میں مبینہ دھاندلی کیس میں ووٹوں کی جانچ پڑتال کرنے والے مقامی کمیشن کے جج غلام حسین اعوان نے کہا کہ کوئی جعلی ووٹ نہیں نکلا البتہ اِنتخابی بے ضابطگیاں پائی گئیں، مارچ دوہزار پندرہ میں ٹریبونل نے حلقے میں ڈالے گے تمام ووٹوں کی تصدیق نادرا سے کروانے کا حکم دیا۔

مئی دو ہزار پندرہ میں نادرا نے ووٹوں پر انگوٹھوں کے نشانات کی تصدیق کے حوالے سے رپورٹ الیکشن ٹریبونل میں جمع کروائی۔ سترہ اگست دو ہزار پندرہ کوٹریبونل نے فریقین کے وکلا کی جانب سے حتمی دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کرلیا تھا۔

کمیشن کی رپورٹ کے مطابق 23 ہزار 525 کاؤنٹر فائلوں پر دستخط اور مہر موجود نہیں ایک لاکھ 80 ہزار 115 ووٹ درست قرار پائے، تین ہزارچھ سو بیالیس ووٹوں کی تصدیق نہیں ہو سکی، دو ہزار 693 کاونٹر فائلز پر صرف عملہ کے دستخط موجود نہیں، 750 ووٹ ایسے نکلے جن پر پرزائیڈنگ آفیسر کی مہر نہیں لگی۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں