این اے 125 دھاندلی کیس : سپریم کورٹ نے الیکشن ٹربیونل کا فیصلہ کالعدم قراردے دیا -
The news is by your side.

Advertisement

این اے 125 دھاندلی کیس : سپریم کورٹ نے الیکشن ٹربیونل کا فیصلہ کالعدم قراردے دیا

لاہور : سپریم کورٹ آف پاکستان نے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 125 میں مبینہ دھاندلی سے متعلق کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے خواجہ سعد رفیق کی اپیل منظور کرلی اور الیکشن ٹربیونل کا فیصلہ کالعدم قرار دے د یا۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں جسٹس عظمت سعید شیخ کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے خواجہ سعد رفیق کی اپیل منظور کرتے ہوئے الیکشن ٹربیونل کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔

خواجہ سعد رفیق 2013ء کے عام انتخابات میں این اے 125 سے کامیاب ہوئے تھے، مسلم لیگ ن کے رہنما کی الیکشن میں کامیابی کو پاکستان تحریک انصاف کے حامد خان نے الیکشن ٹربیونل میں چیلنج کیا تھا۔

الیکشن ٹربیونل نے خواجہ سعد رفیق کونااہل قراردے دیا

الیکشن ٹربیونل نے مئی 2015ء میں قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 125 کے انتخابی نتائج کالعدم قرار دے کر ضمی الیکشن کرانے کا حکم دیا تھا۔

بعدازاں مسلم لیگ ن کے رہنما خواجہ سعد رفیق نے الیکشن ٹربیونل کے جج کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔

سپریم کورٹ آف پاکستان نے رواں سال مارچ میں قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 125 میں انتخابی دھاندلی سے متعلق کیس کا فیصلہ محفوظ کیا تھا۔

یاد رہے کہ مئی 2013 میں منعقد ہونے والے الیکشن میں مسلم لیگ ن کے خواجہ سعد رفیق این اے 125 سے 123416 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے تھے جبکہ پی ٹی آئی کے حامدزمان 84495 ووٹ لے کر ددوسرے نمبر پر رہے تھے۔

واضح رہے کہ سابق وزیرریلوے اور مسلم لیگ ن کے رہنما خواجہ سعد رفیق 2018 کے انتخابات میں ن لیگ کی جانب سے لاہور کے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 131 سے امیدوار ہیں۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں