The news is by your side.

Advertisement

این اے 75 سے متعلق سپریم کورٹ کا اہم فیصلہ

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے سیالکوٹ کے حلقے این اے 75 ڈسکہ سے متعلق دائر درخواست پر بڑا فیصلہ کیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق الیکشن کمیشن نے این اے 75 سے پی ٹی آئی امیدوار علی اسجدملہی کی جانب سے دائر درخواست کو منظور کرلیا ہے اور کل کیس کی سماعت کرنے کا حکم نامہ جاری کردیا ہے۔

سپریم کورٹ کا تین رکنی بینچ کل سماعت کرے گا، پی ٹی آئی امیدوار نے الیکشن کمیشن کے فیصلے کیخلاف اپیل کی تھی، جس پر رجسٹرار آفس نے فریقین کو نوٹس جاری کردئیے ہیں۔

واضح رہے کہ الیکشن کمیشن نے این اے 75 کا ضمنی الیکشن کالعدم قرار دیا تھا، جسے حلقے سے پی ٹی آئی امیدوار اسجد ملہی نے سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔

سپریم کورٹ میں دائر درخواست سماعت کے لئے منظور ہونے کے بعد علی اسجد ملہی نے اے آر وائی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ فارم45 جمع ہوجائیں تو ریٹرننگ افسر کو نتائج کا اعلان کرنا ہوتا ہے، مگر انکی اپیل پر کپتان نے20اسٹیشنزپر دوبارہ پولنگ کی آفر کی، کپتان کا حکم ہے کہ بیس پولنگ اسٹیشنزمیں دوبارہ میچ کھیلنےکو تیار ہیں۔

پی ٹی آئی امیدوار علی اسجد ملہی کا کہنا تھا کہ آراو نے 14اور الیکشن کمیشن نے360میں ری پول کا فیصلہ دیا حالانکہ چند گڑبڑ والے پولنگ اسٹیشنز پر دوبارہ پولنگ شروع ہوگئی تھی اورخود آراو نےکمیشن کوبتایا تھا کہ پولنگ دوبارہ شروع کرادی گئی تھی۔

علی اسجدملہی کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن نےمیڈیا اور مریم کی پریس کانفرس دیکھ کرفیصلہ دیا، کل ابتدائی سماعت ہےسپریم کورٹ پر مکمل اعتمادہے، عدلیہ آزادہے،فیصلہ ہمارےحق میں ہوگا۔

یاد رہے پانچ مارچ کو پی ٹی آئی امیدوارعلی اسجد نے این اے 75 ڈسکہ کے نتائج پر الیکشن کمیشن کے فیصلہ کیخلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی تھی۔

یہ بھی پڑھیں:  این اے 75 ڈسکہ کے نتائج پر الیکشن کمیشن کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج

درخواست میں استدعا کی گئی تھی کہ ضمنی الیکشن کالعدم قرار دے کر نیا الیکشن کرانے کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے اور 19فروری کےاین اے75ڈسکہ کےانتخابی نتائج جاری کرنے کا حکم دیا جائے۔

الیکشن کمیشن نے این اے75 کا ضمنی انتخاب کالعدم قرار دیتے ہوئے 18 مارچ کو تمام پولنگ ‏‏اسٹیشنز پر ری پولنگ کا حکم دیا تھا، فیصلے میں کہا گیا تھا کہ حلقے میں شفافیت کو مدنظر نہیں رکھا گیا، فائرنگ،ہلاکتوں کیساتھ امن ‏‏وامان کی خراب صورتحال رہی، خراب صورتحال کے باعث ووٹرز کیلئے ہراسمنٹ کا ماحول پیداہوا، ‏‏جس سے نتائج کےعمل کو مشکوک اورمشتبہ بنایا گیا۔

بعد ازاں وزیراعظم عمران خان نے این اے 75 ڈسکہ ضمنی انتخاب کالعدم قرار دیے جانے کے الیکشن ‏کمیشن کے فیصلہ کو چیلنج کرنےکی منظوری دیتے ہوئے عثمان ڈار اور قانونی ٹیم کوعدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت کی تھی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں