The news is by your side.

Advertisement

کھجور درآمد کرنے پر بھاری ڈیوٹی عائد کی جائے، سراج محمد خان

کراچی: قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے کامرس اینڈ ٹیکسٹائل کے چیئرمین سراج محمد خان نے کہا ہے کہ کھجور کی ایکسپورٹ بڑھانے کے لیے امن وامان اور سستی بجلی کی فراہمی ضروری ہے، کجھور کی ایکسپورٹ میں اضافہ کے لیے کاشت کاروں کے علاوہ بزنس کمیونٹی سے بھی روابط بڑھانے کی ضرورت ہے۔

یہ بات انہوں نے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے کامرس اینڈ ٹیکسٹائل قائمہ کمیٹی کے چیئرمین سراج محمد خان نے ٹریڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی میں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔

ان کا کہنا تھا کہ ہماری ٹیکسٹائل کی صنعت مشکلات سے دوچار ہے اس لیے دیگر شعبوں کی ایکسپورٹ میں اضافہ ضروری ہے، ٹی ڈیپ ایکسپورٹ میں اضافے کے لیے ترقی یافتہ ممالک کے ساتھ ترقی پذیر ممالک میں پاکستانی مصنوعات کے لیے نئی منڈیاں تلاش کریں۔

سراج محمد خان نے کہا کہ مقامی کھجور کی صنعت کو فروغ دینے کے لیے ضروری ہے کہ کھجور امپورٹ کرنے پر بھاری ڈیوٹی عائد کی جائے۔

انہوں نے کہا کہ  کجھور کی ایکسپورٹ بڑھانے کے لیے ٹی ڈیپ جدید ٹیکنالوجی اور نظام متعارف کرائے، ملکی ٹیکسٹائل کی صنعت مشکلات سے دوچار ہے اس لیے دیگر شعبہ جات سے ایکسپورٹ بڑھانا ضروری ہے، ٹی ڈیپ ترقی یافتہ ممالک کے ساتھ ترقی پذیر ممالک میں پاکستانی مصنوعات کے لیے نئی منڈیاں تلاش کریں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ افریقہ بہت بڑی مارکیٹ ہے، ٹی ڈیپ افریقہ میں پاکستانی مصنوعات کے لیے کام کرے، مقامی کھجور انڈسٹری کے فروغ کے لیے کھجور امپورٹ کرنے پر بھاری ڈیوٹی عائد کی جائے۔

پاکستان کھجور پیدا کرنے والے دنیا کے چھ بڑے ممالک میں شامل ہے، سیکریٹری ٹریڈ ڈیولپمنٹ

اس ضمن میں سیکریٹری ٹریڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی انعام اللہ خان نے قائمہ کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کجھور پیدا کرنے والے دنیا کے 6 بڑے ممالک میں شامل ہے،کھجور کی ایکسپورٹ 8.3 ملین ڈالرز سالانہ ہے اور ہم ایکسپورٹ بڑھانے کے لیے اقدامات کررہے ہیں۔

انہوں نے آگاہ کیا کہ اس حوالے سے 29 اگست کو کراچی میں کھجور کے حوالے سے سیمینار کر رہے ہیں اور نومبر میں ایکسپومنعقد کی جائے گی۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں