اسلام آباد : قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی میں پی آئی اے کے کرایوں میں اضافے پر اراکین نے شدید برہمی کا اظہار کیا، شگفتہ جمعانی نے کہا میں نے پی آئی اے سے سفر کرنا چھوڑ دیا، اب افورڈ نہیں کر سکتی۔”
تفصیلات کے مطابق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے گورنمنٹ ایشورنسز کا اجلاس چیئرپرسن سینیٹر نزہت صادق کی زیر صدارت ہوا، جس میں وزارتِ توانائی، مواصلات، اطلاعات اور پارلیمانی امور کے حکام نے شرکت کی۔
اجلاس میں گیس کی فراہمی، ایل پی جی سلنڈرز کے معیار، اور موٹرویز پر زائد کرایوں کے معاملات پر تفصیلی غور کیا گیا۔
اجلاس کے دوران پی آئی اے کے کرایوں میں اضافے پر اراکین نے شدید برہمی کا اظہار کیا۔
رکنِ قومی اسمبلی شگفتہ جمعانی نے کہا کہ “کراچی سے اسلام آباد پی آئی اے کی ون وے ٹکٹ 60 ہزار سے کم نہیں، اگر میں غلط کہوں تو مجھ پر لعنت، کراچی کے تمام اراکین تصدیق کر سکتے ہیں۔”
ان کا کہنا تھا کہ “میں نے پی آئی اے سے سفر کرنا چھوڑ دیا، اب افورڈ نہیں کر سکتی۔”
اجلاس کے دوران پی آئی اے حکام نے وضاحت دی کہ کراچی سے اسلام آباد اوسط کرایہ 25 سے 27 ہزار روپے ہے۔
کمیٹی نے موٹرویز پر میڈیکل سہولیات کی عدم دستیابی پر بھی تشویش ظاہر کی، چیئرپرسن نزہت صادق نے کہا کہ “موٹروے پر ایمرجنسی کی صورت میں بیسک دوائیاں بھی میسر نہیں، لائف سیونگ ادویات کم از کم کاؤنٹرز پر دستیاب ہونی چاہییں جبکہ انہوں نے متعلقہ حکام کو اس حوالے سے فوری اقدامات کی ہدایت جاری کی۔
اجلاس میں این ایچ اے کے اختیارات اور ذمہ داریوں پر بھی سوالات اٹھائے گئے۔ اراکین نے استفسار کیا کہ “اگر عوام سے ٹول ٹیکس وصول کیا جاتا ہے تو سہولیات کی فراہمی این ایچ اے کی ذمہ داری ہے۔”
کمیٹی نے این ایچ اے سے محصولات، کنٹریکٹس اور قیمتوں میں فرق کی وضاحت طلب کر لی۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


