The news is by your side.

Advertisement

چنے کھانے کے شوقین ڈرائیور نے چلتی ٹرین روک دی

گوجرانوالہ: نان اور چنے کھانے کے لیے ٹرین ڈرائیور ریل کو کوچ یا ویگن کی طرح مرکزی ٹریک پر روک کر چلا گیا، ڈرائیور اور اسسٹنٹ کو معطل کردیا گیا وزیر ریلوے نے واقعے کی تحقیقات کا حکم دے دیا۔

تفصیلات کے مطابق پاکستان ریلوے میں جہاں افسران کی طرف سے مالی کرپشن اور بے ضابطگیوں کی آئے دن خبریں سامنے آتی ہیں وہیں نچلہ عملہ بھی کسی طور کم نہیں جو اپنی غفلت کے سبب مسافروں کے مال کے ساتھ ساتھ وقت کے ضیاع کا سبب بننے سے بھی گریز نہیں کرتا۔

ایسا ہی ایک واقعہ گوجرانوالہ میں پیش آیا جہاں ایک ٹرین ڈرائیور محض اپنی زبان کے چٹخارے کے لیے ٹرین مرکزی ٹریک پر روک دی لیکن ریلوے کے کسی اعلیٰ افسر نے واقعے کا نوٹس تک نہ لیا۔

اطلاعات کے مطابق گوجرانوالہ سے گزرتے ہوئے شمس آباد میں ایک ٹرین کے ڈرائیور نے نان چنے کھانے کے لیے ٹریک کو مین ٹریک پر روک دیا اور چھولے کا سالن و روٹی خریدنے کے لیے چلا گیا، انجن اسٹارٹ حالت میں ٹریک پر رکا رہا جس کی ہیڈ لائٹس بھی جلتی رہیں،بعدازاں وہ تھیلی میں سالن اور روٹی لیے آتا نظر آیا اور ٹرین کو کسی کوچ یا ویگن کی طرح اسٹارٹ کرکے چلتا بنا۔

ٹرین ڈرائیور کا یہ عمل کسی بھی حادثے کا سب بن سکتا ہے، یہ مین ٹریک تھا جہاں یہ انجن رکا ہوا تھا ، لاہور اور راولپنڈی سے آنے والی ٹرینیں اسی ٹریک سے گزرتی ہیں اگر یہ انجن کچھ دیر میں نہ جاتا تو ممکن ہے کوئی ٹرین اس سے آکر ٹکراجاتی۔

واقعہ پر لوگوں نے ریلوے حکام سے نوٹس لے کر ٹرین ڈرائیور کے خلاف کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا جس پر سی ای او ریلوے جاوید انور نے نوٹس لیتے ہوئے ٹرین ڈرائیور عبدالمجید اور اسسٹنٹ محمد ثاقب کو معطل کردیا۔

جاوید انور کا کہنا تھا کہ یہ مسافر ٹرین نہیں ایک انجن تھا جس کے ساتھ ٹرین نہ تھی اور اس کے ساتھ سیکیورٹی کا بھی کوئی معاملہ درپیش نہیں تھا۔

اے آر وائی نیوز کے نمائندے غلام فرید نے بتایا کہ ٹرین کو چند سو روپے دے کر کہیں بھی رکوایا جاسکتا ہے، اسمگلر کپڑے اور الیکٹرونک آئٹمز کی اسمگلنگ کے لیے ٹرین کو اسٹیشن آنے سے قبل کہیں بھی رکوالیتے ہیں اور ڈرائیور کو چند سو روپے ادا کردیتے ہیں۔

عینی شاہدی نے نمائندہ اے آر وائی کو بتایا کہ ہم نے کئی بار دیکھا ہے کہ راتوں کو ٹرینیں اسٹیشن سے کچھ دور رک جاتی ہیں جہاں کپڑا اور دیگر آئٹمز اتار لیے جاتے ہیں تاکہ کسٹم پر ٹیکس ادا نہ کرنا پڑے، یہ عمل روز کا معمول ہے۔

وزیر ریلویز خواجہ سعد رفیق نے لوکو موٹیو ڈرائیور کی طرف سے پھاٹک پر انجن روکنے کا نوٹس لیتے ہوئے تحقیقات کا حکم دے دیا۔

وزیر ریلوے سعد رفیق کا کہنا تھا کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق ڈرائیور پھاٹک پر انجن روکنے کا مجاز نہیں تھا، ایس او پیز کی خلاف ورزی قابل برداشت نہیں،ٹیکنیکل ہو یا نان ٹیکنیکل، اسٹاف کا ایک ایک رکن ایس او پیز پر سختی سے عمل کرے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ریلوے پر قوم کے بڑھتے ہوئے اعتماد کو چھوٹی چھوٹی غلطیوں پر قربان نہیں کر سکتے، تحقیقات کی جائیں کہ روکنے کی وجہ ٹیکنیکل تھی یا محض نان پکوڑے لینے کے لیے انجن کو روکا گیاِ، افسران مکمل تحقیقات کر کے مجھے رپورٹ پیش کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں