The news is by your side.

Advertisement

چیئرمین نیب نے عبد الرﺅف صدیقی کیخلاف بد عنوانی کا ریفرنس دائر کرنے کی منظوری دے دی

اسلام آباد : چیئرمین نیب جسٹس جاوید اقبال نے سابق صوبائی وزیر برائے انڈسٹریز اینڈ کامرس محمد عبد الرﺅف صدیقی اور دیگرکے خلاف بد عنوانی کا ریفرنس دائر کرنے کی منظوری دے دی، ملزمان پر مبینہ طور اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے 372 غیرقانونی بھرتیوں اورسرکاری فنڈز میں خردبرد کا الزام ہے۔

تفصیلات کے مطابق قومی احتساب بیورو کے ایگزیکٹو بورڈ کا اجلاس قومی احتساب بیورو کے چیئرمین جسٹس جاوید اقبال کی زیرصدارت نیب ہیڈکوارٹر ز اسلام آبادمیں منعقد ہوا، اجلاس میں ڈپٹی چیئرمین نیب ، پراسیکیوٹر جنرل اکاﺅ نٹیبلٹی ،ڈی جی آپریشن اور دیگر سینئر افسران نے شرکت کی۔

قومی احتساب بیورو کے ایگزیکٹو بورڈ کے اجلاس میں12انکوائریوں کی منظوری دی گئی، جن میں سعید احمد سابق صدر نیشنل بینک پاکستان ، نیشنل بینک آف پاکستان کے افسران/اہلکاران اور دیگر ،نیپرا ،وزارت پانی و بجلی ،پی پی آئی بی کے افسران/اہلکاران اور پورٹ قاسم کول پاور،ساہیوال کول پاور پراجیکٹس کے سپانسرز اور دیگر، میسرز حسنین کوٹیکس اور دیگر،حیدر اشرف ڈی آئی جی پولیس شامل ہیں ۔

امین وینس سی سی پی اولاہور، عمر ورک ایس ایس پی اور دیگر،کامران اخترسابق ٹاﺅن نا ظم/ ایم پی اے بلدیہ ٹاﺅن کراچی،محکمہ صحت حکومت سندھ کے افسران/اہلکاران، یونیورسٹی آف صوابی کے افسران/اہلکاران اور دیگر، پبلک سیکٹر کمپنیز خیبر پختونخوا کے افسران/اہلکاران اور دیگر،سول ایوی ایشن اتھارٹی باچا خان انٹرنیشنل ائیرپورٹ پشاور کے افسران/اہلکاران اور دیگر اورپاٹا کے افسران/اہلکاران اور دیگر کے خلاف انکوائرز کی منظوری دی گئی ۔

انکوائریوں میں سعید احمد جاگرانی سابق ڈائریکٹر نارا کینال سیڈامیرپور خاص اور نصرت ڈویژن محکمہ آبپاشی کے افسران /اہلکاران اور دیگر کا نام بھی شامل ہیں۔

قومی احتساب بیورو کے ایگزیکٹو بورڈ کے اجلاس میں بدعنوانی کا ریفرنس دائرکرنے کی منظوری دی گئی، جس میں سابق صوبائی وزیر برائے انڈسٹریز اینڈ کامرس حکومت سندھ محمد عبد الرﺅف صدیقی اور دیگرکے خلاف بد عنوانی کا ریفرنس دائر کرنے کی منظوری دی۔ملزمان پر مبینہ طور اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے 372غیرقانونی بھرتیوں اورسرکاری فنڈز میں خردبرد کا الزام ہے۔جس سے قومی خزانے کو 42کروڑ روپے سے زائدکا نقصان پہنچا۔

نیب کے ایگزیکٹو بورڈ نے علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی اسلام آباد کے افسران /اہلکاران اور دیگر ،پنجاب فنڈ فار ری ہیبیلیٹیشن آف سپیشل پرسنز لمیٹڈ لاہور کی انتظامیہ /افسران /اہلکاران اور دیگر،عبدالقدیر بھٹی سابق اے آئی جی اور دیگر،عامر ذولفقار ڈی آئی جی اور دیگر، واصف محمود سابق پرنسپل ایگزیکٹیو آفیسر پاکستان سٹیل ملز اور دیگر، خا اور دیگر،داد ڈویژن ڈسٹرکٹ شہید بے نظیر آباد کے افسران ، ڈاکٹر مبارک علی پرنسپل شیخ زید میڈیکل کالج رحیم یار خان اور دیگر کے خلاف اب تک عدم شواہد کی بنیاد پرقانون کے مطابق انکوائری بند کرنے کی منظوری دی۔

نیب کے ایگزیکٹو بورڈ نے سی ڈی اے کے افسران / اہلکاران اور دیگرکے خلاف اب تک عدم شواہد کی بنیاد پرقانون کے مطابق انوسٹی گیشن بند کرنے کی منظوری دی۔

نیب کے ایگزیکٹو بورڈ نے ایو ب میڈیکل اینڈ ٹیچنگ انسٹی ٹیوشن ایبٹ آباد کے افسران/ اہلکاران اور دیگرکے خلاف انکوائری ، ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ اسلام آباد کو قانون کے مطابق کارروائی کیلئے بھجوانے کی سفارش کی۔

چیئرمین نیب جسٹس جاوید اقبال نے کہا کہ بدعنوانی تمام برائیوں کی جڑہے ۔نیب “احتساب سب کے لئے” کی پالیسی پر سختی سے عمل پیرا ہے، نیب بد عنوان عناصر ، اشتہاری اور مفرور ملزمان کے مقدمات کو قانون کے مطابق منطقی انجام تک پہنچانے پر یقین رکھتاہے اور اس ضمن میں ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں