The news is by your side.

Advertisement

آشیانہ ہاؤسنگ اسکیم اسکینڈل ، نواز شریف کے پرنسپل سیکریٹری فواد حسن فواد گرفتار

لاہور: آشیانہ اقبال ہاؤسنگ اسکینڈل میں سابق وزیر اعظم نواز شریف کے پرنسپل سیکریٹری فواد حسن فواد کو نیب نے حراست میں لے لیا۔

تفصیلات کے مطابق کرپشن کے بڑے ملزمان کے گرد گھیرا تنگ کردیا گیا، آشیانہ اقبال ہاؤسنگ اسکینڈل میں بڑی پیش رفت سامنے آئی، نیب نے سابق وزیراعظم نواز شریف کے پرنسپل سیکریٹری فواد حسن فواد کو گرفتار کرلیا۔

ڈی جی نیب نے بتایا کہ فواد حسن فواد کو کرپشن کے 3 الزامات پر پکڑا گیا، جن میں آشیانہ اقبال ہاوسنگ اسکینڈل اور نجی بینک میں غیرقانونی نوکری شامل ہے، فواد حسن فواد نے بطور سیکریٹری وزیراعلیٰ اختیارات کا غلط استعمال کیا اور پنجاب لینڈ ڈویلپمنٹ کمپنی چیف ایگزیکٹو کو غیرقانونی احکامات دیئے۔

نیب لاہور کا کہنا تھا کہ سرکاری طور پر کنٹریکٹ چوہدری لطیف اینڈسنز کو دیا گیا تھا، معطل کرایا گیا اور انکوائری کمیٹی کی کنٹریکٹ رپورٹ کوحکام سےمخفی رکھا، انکوائری کمیٹی سیکرٹری فنانس طارق باجوہ کی زیر نگرانی کام کررہی تھی۔

نیب کے مطابق ملزم نے چوہدری لطیف کا کنٹریکٹ ایوارڈنگ کے 8 ماہ بعد معطل کرایا، کمپنی کو 70 ملین بطور موبلائزیشن ایڈوانس ادا کیے گئے تھے، ملزم کی کی وجہ سے حکومت کو 5.9 ملین بطور جرمانہ ادا کرنا پڑا۔

نیب لاہور کا کہنا تھا فواد حسن فواد کے اقدام سے پروجیکٹ کی قیمت میں اربوں کا اضافہ ہوا، نیب کی جانب سے ملزم کو متعدد مرتبہ طلب کیا جبکہ وہ 2بار پیش ہوئے، ملزم پر بطور سیکرٹری ہیلتھ مہنگے داموں 6 موبائل ہیلتھ یونٹس خریدنے کا الزام ہے۔

نیب نے کہا کہ ملزم نے 2010 میں 55ملین مالیت پر ایک موبائل ہیلتھ یونٹ خریدا اور غیرقانونی طور پر نجی بینک میں ملازمت کرتارہا جبکہ ایک گروپ کے ماتحت ادارہ سپرنٹ انرجی میں تعینات رہا، فواد حسن پر 9 سی این جی اسٹیشنزکی غیرقانونی منتقلی کا الزام بھی ہے۔

ذرائع کے مطابق سابق وزیر اعظم کے پرنسپل سیکریٹری فواد حسن فواد نے تفتیش میں سوالات کےدوران نیب افسران سے بدتمیزی کی۔

نیب نے آشیانہ ہاؤسنگ اقبال کیس میں فواد حسن فواد کو آج گیارہویں مرتبہ طلب کیا تھا اور وہ  آج چوتھی بار نیب لاہور میں پیش ہوئے، وہ سابق وزیر اعظم نواز شریف  اور شاہد خاقان عباسی کے پرنسپل سیکریٹری بھی رہ چکے ہیں۔

خیال رہے کہ نیب نے اسی کیس میں سابق ڈی جی ایل ڈی اے احد چیمہ کو بھی گرفتار کررکھا ہے جو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہیں۔

یاد رہے کہ سال 2012 میں میں آشیانہ ہاؤسنگ اسکیم کا آغاز ہوا، منصوبے کے مطابق پانچ سال میں پچاس ہزار گھر تعمیر کئے جانے تھے لیکن دعوے حقیقت میں تبدیل نہ ہو سکے۔

واضح رہے کہ گزشتہ سال نومبر میں آشیانہ ہاؤسنگ سوسائٹی کی تحقیقات میں یہ انکشاف ہوا تھا کہ وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق کے پیراگون سوسائٹی سے براہ راست روابط ہیں۔

پنجاب لینڈ ڈویلپمنٹ کمپنی کے ذریعے آشیانہ اسکیم لانچ کی گئی تھی، مذکورہ اسکیم سے روابط کے الزام پرپی ٹی آئی نے پنجاب اسمبلی میں خواجہ سعد رفیق کو عہدے سے برطرف کرنے کیلئے قرار داد بھی جمع کرائی تھی۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں‘ مذکورہ معلومات  کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کےلیے سوشل میڈیا پرشیئر کریں

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں