نیب کرپشن میں سہولت کار بنا ہوا ہے،قوانین کی دھجیاں اڑا دی گئی ہیں،سپریم کورٹ کےریمارکس
The news is by your side.

Advertisement

نیب کرپشن میں سہولت کار بنا ہوا ہے، سپریم کورٹ

اسلام آباد : سپریم کورٹ نے ازخود نوٹس کیس کی سماعت کے دوران حکومت سے پلی بارگین پرجواب طلب کر تے ہوئے اپنے ریمارکس میں کہا کہ نیب کرپشن میں سہولت کار بنا ہوا ہے۔

تفصیلات کے مطابق آج پلی بارگین کے حوالے سے ازخود نوٹس کیس کی سماعت سپریم کورٹ میں ہوئی، سماعت کے دوران جسٹس عظمت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر نائب قاصد ڈھائی سو روپے رشوت لے تو جیل جاتا ہے جب کہ ڈھائی ارب کی کرپشن کرنے والا پلی بارگین کر کے عہدے پر واپس آجاتا ہے کیوں کہ نیب اسے قسطوں میں کھاتے کماتےرقم واپس کرنے کی سہولت مہیا کرتا ہے۔

مشتاق رئیسانی کے گھرسے کروڑوں مالیت کی کرنسی و زیورات برآمد

ایک موقع پر جسٹس عظمت سعید نے ریمارکس دیئے کہ نیب اخبارمیں اشتہار شائع کرادے، کرپشن کرو اور رضا کارانہ واپسی کرا لو۔نیب کرپشن میں سہولت کار بنا ہوا ہے۔

اس پر نیب وکیل نے موقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ رضاکارانہ رقوم واپسی کا قانون نیب نےنہیں بنایا ہے نیب محض قانون پر عمل درآمد کر وا رہا ہے۔

مشتاق رئیسانی سے پلی بارگین کرکے 65کروڑ32لاکھ روپے واپس لےلیے، ڈی جی آپریشنز نیب

جس پر سپریم کورٹ کے جج نے جوابا کہا کہ قانون ضرور نیب نہیں بنایا لیکن نیب اس قانون کی دھجیاں ضرور اُڑا رہا ہے، انہوں نے سوال کیا کہ نیب کسی بڑے آدمی کوکیوں نہیں پکڑتا؟

واضح رہے مشہور زمانہ مشتاق رئیسانی کرپشن کیس میں نیب نے دوارب روپے کی پلی بارگین درخواست نہ صرف قبول کرلی تھی بلکہ چیئرمین نیب نے اس عمل کا دفاع بھی کیا تھا جس کے بعد نیب کا قانون پلی بارگین زبان زد عام ہو گیا ہے.

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں