The news is by your side.

Advertisement

سابق صدرآصف زرداری کے خلاف پارک لین ریفرنس دائر

اسلام آباد: قومی احتساب بیورو نیب نے پیپلز پارٹی کے شریک چیئر مین آصف زرداری کےخلاف پارک لین ریفرنس بھی دائرکردیا، سابق صدرپرالزام ہے کہ انھوں نےجعلی دستاویزات پربینک سے قرضہ لے کرخزانے کوبھاری نقصان پہنچایا۔

تفصیلات کے مطابق پارک لین ریفرنس اسلام آباد کی احتساب عدالت کےجج محمدبشیرکی عدالت میں دائرکیاگیا، ریفرنس میں آصف زرداری سمیت سترہ ملزمان کو نامزد کیا گیا ہے۔

اس ریفرنس میں آصف زرداری پہلےہی نیب کی تحویل میں ہیں۔ یہ قرض پارک لین کمپنی کی فرضی کمپنی پیراتھون کےنام پرلیاتھا اور آصف زرداری پارک لین کےپچیس فیصدکےشیئرہولڈرہیں، پچیس فیصد شیئرز انہوں نے اپنےبیٹے بلاول بھٹو زرداری کےنام پر رکھے ہیں۔

آصف زرداری پر الزام ہے کہ انھوں نے بطورشیئر ہولڈر پارک لین فرضی فرنٹ کمپنی پیراتھون بنائی،انھوں نے دو ہزار نو میں کمپنی کے نام پر نیشنل بینک سے ڈیڑھ ارب روپے قرض حاصل کیا اور قرضے کی رقم نجی بینک میں کمپنی اکاؤنٹ میں منتقل کی۔

ریفرنس میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ آصف زرداری نےقرضہ لینےکے لیے جعلی دستاویزات تیار کئے اورایس ای سی پی ، نیشنل بینک سے حقائق چھپائے۔ انھوں نے بطور صدر اختیارات کا ناجائز استعمال کیا اورقرضے کی رقم میں اضافہ بھی کرایا۔ آصف زرداری نے اثر و رسوخ سےقرض کی رقم دو ارب اسی کروڑکرالی تھی۔

انہوں نے ایک اور نجی بینک میں پارک لین کے نام سے اکاؤنٹ بھی کھلوایا، سابق صدر دیگر ذرائع سے ملنے والی رقم نجی بینک میں رکھواتے تھے۔

نیب کا کہنا تھا کہ آصف زرداری بطور ڈائریکٹر پارک لین اسٹیٹ معاملات چلاتے رہے اور بطور صدر مملکت منی لانڈرنگ بھی کرتے رہے، وہ کمپنی کے فرضی اکاؤنٹس سے منی لانڈرنگ کرتےتھے، انہوں نے دھوکے سے لیے گئے قرضے کی بھی منی لانڈرنگ کی۔ پارک لین کیس میں قومی خزانے کو 3.77 ارب روپے کا نقصان پہنچایا گیا۔

یا درہے کہ رواں ماہ کے آغاز میں قومی احتساب بیورو (نیب) کے چیئرمین جسٹس (ر) جاوید اقبال کی زیر صدارت نیب کے ایگزیکٹو بورڈ کا اجلاس منعقد ہوا تھا ۔ اجلاس میں بورڈ نے سابق صدر آصف علی زرداری کے خلاف ریفرنس دائر کرنے کی منظوری دی تھی ۔

سابق صدر آصف علی زرداری جعلی بینک اکاؤنٹس کیس میں اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے درخواست ضمانت مسترد کئے جانے کے بعد گرفتار کرنے کا حکم دیا تھا، جس کے بعد نیب ٹیم نے سابق صدر آصف زرداری کو بلاول ہاؤس سے گرفتار کرلیا تھا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں