The news is by your side.

Advertisement

اسحاق ڈار کے ریڈ وارنٹ جاری

اسلام آباد: قومی احتساب بیورو (نیب) نے ایون فیلڈ ریفرنس کے مفرور ملزم اسحاق ڈار کو واپس لانے کے لیے ریڈ وارنٹ جاری کردیے۔

تفصیلات کے مطابق وزارت داخلہ نےریڈوارنٹ جاری کرنےکے لیے خط لکھاتھا، انٹر پول نے پاکستان کی درخواست منظور کر کے اسحاق ڈار کے ریڈ وارنٹ جاری کیے۔

بعد ازاں قومی احتساب بیورو نے اسحاق ڈارکو انٹرپول کے ذریعے لندن سے وطن واپس لانےکے لیے ریڈ وارنٹ جاری کیے جس میں برطانیہ کے ایون فیلڈ ہاؤس پارک لین 16 اے اور سابق وفاقی وزیرخزانہ کے دبئی میں موجود دوسرے گھر  ای144ہجویری ویلاایمریٹس ہل کے گھر کا ایڈریس لکھا۔

انٹرپول کی مدد سے اسحاق ڈار کی وطن واپسی کے لیے جاری ہونے والے ریڈ وارنٹ میں سابق وفاقی وزیر خزانہ کے جسمانی خدوخال کی تفصیلات بھی درج کی گئی ہیں۔

قبل ازیں وزارت داخلہ نے نیب کی درخواست پر اسحاق ڈار کی گرفتاری اور وطن واپسی کے لیے  ریڈوارنٹ جاری کرنے کی منظوری دی تھی، جس کے لیے انٹرپول کو بھی خط ارسال کیا گیا تھا۔

ایف آئی اے کی جانب سے انٹرپول کو لکھے گئے خط میں انٹرپول س برطانیہ میں موجود اسحاق ڈار کی گرفتاری میں مدد فراہم کرنے کی درخواست کی گئی تھی ، خط کے ساتھ اسحاق ڈار کو احتساب عدالت کی طرف سے اشتہاری قرار دینے سمیت ان کے دائمی وارنٹ گرفتاری اور اثاثہ جات ریفرنس کی تفصیلات بھی منسلک ہیں۔

مزید پڑھیں: اسحاق ڈار کے ریڈوارنٹ جاری

خیال رہے عدالت نے اسحاق ڈار کو وطن واپسی کے لیے کئی بار مہلت دی مگر وہ اپنی صفائی دینے کے لیے حاضر نہ ہوئے۔

گذشتہ ہفتے اسحاق ڈار کی وطن واپسی سے متعلق ہونے والی کیس کی سماعت میں اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ اسحاق ڈار کے ریڈوارنٹ جاری کردیے گئے، وزارت داخلہ کی منظوری کے بعد ریڈ وارنٹ جاری کیے جائیں گے، جس پر چیف جسٹس نے استفسار کیا تھا کہ کیا اسحاق ڈار کا پاکستانی پاسپورٹ منسوخ کیا گیا؟

اٹارنی جنرل نے عدالت کو آگاہ کیا تھا کہ اسحاق ڈارکا ابھی تک پاسپورٹ منسوخ نہیں کیا گیا کیونکہ ملزم اس کے بعد واپس نہ آنے کا جواز پیش کرسکتا ہے، ہمیں انٹرپول کی جانب سے کارروائی کا انتظار ہے۔

ویڈیو دیکھیں: بیمار اسحاق ڈار کی لندن میں پھرتیاں، ویڈیو سامنے آگئی

یاد رہے 9 جولائی کو جسٹس ثاقب نثار نے اسحاق ڈار کی پیشی یقینی بنانے کے لیے وزارت داخلہ اور اٹارنی جنرل کو حکم دیتے ہوئے کہا تھا کہ اسحاق ڈار ملک کی سب سے بڑی عدالت کو خاطر میں نہیں لارہے، وہ مفرور ہیں، کوئی بھی ان کو پکڑ کرپیش کرسکتا ہے۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ اگر اسحاق ڈار نہیں آتے تو ان کا پاسپورٹ منسوخ کیا جائے اور انٹرپول کے ذریعے انہیں واپس لایا جائے۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں’ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں