The news is by your side.

Advertisement

آصف زرداری اور بلاول بھٹو کی پیشی پر نیب اعلامیہ جاری

اسلام آباد : پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف زرداری اور چیئرمین بلاول بھٹو کی پیشی سے متعلق نیب اعلامیہ میں کہا گیا مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے سوالات پوچھے جبکہ کمبائنڈ انویسٹی گیشن ٹیم نے تحریری سوالنامہ بھی دیا، جوابات کی روشنی میں آئندہ بلانے یا نہ بلانے کا فیصلہ ہوگا۔

تفصیلات کے مطابق نیب کی جانب سے پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف زرداری اور چیئرمین بلاول بھٹو کی پیشی پر اعلامیہ جاری کردیا ہے، اعلامیہ میں کہا گیا آصف زرداری اور بلاول بھٹو آج نیب راولپنڈی میں پیش ہوئے، نیب کی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے 2 گھنٹے سوالات کیے، فی الحال 3 مقدمات میں سوالات کیے گئے۔

نیب اعلامیہ میں کہا گیا ڈی جی نیب کی سربراہی میں مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نےسوالات پوچھے ، کمبائنڈ انویسٹی گیشن ٹیم نے تحریری سوالنامہ بھی دیا، جوابات کی روشنی میں آئندہ بلانے یا نہ بلانے کا فیصلہ ہوگا، انکوائری براہ راست چیئرمین نیب کی نگرانی میں ہورہی ہے۔

یاد رہے جعلی بینک اکاؤنٹس کیس میں آصف زرداری اور بلاول بھٹو سے نیب نے ابتدائی تفتیش مکمل کر لی ہے ، دونوں باپ بیٹا تحقیقات کے لئے اسلام آباد میں نیب کے دفتر میں پیش ہوئے۔ یہ بلاول بھٹو کی کسی بھی تفتیشی ادارے کے روبرو اپنی زندگی کی پہلی پیشی تھی۔

مزید پڑھیں : پارک لین کمپنی کیس : آصف زرداری اور بلاول بھٹو نے بیان ریکارڈ کرادیا

تفتیشی حکام نے دونوں سے الگ الگ کمرے میں پوچھ گچھ کی اور تحریری سوالنامہ بھی دیا۔

نیب ذرائع کے مطابق آصف زرداری اور بلاول بھٹو کو پارک لین کمپنی کیس میں طلب کیا گیا ہے، پارک لین کیس میں اربوں روپےکی ترسیلات جعلی بینک اکاؤنٹس سے کی گئیں، آصف زرداری پرپارک لین کمپنی میں 1989 میں فرنٹ مین کے ذریعے خریداری کاالزام ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے 2009 میں آصف زرداری اور بلاول بھٹو کمپنی کے شیئر ہولڈر بنے، دونوں 25 ،25 فیصد کےشیئر ہولڈر ہیں، آصف زرداری بطور کمپنی ڈائریکٹر اکاؤنٹس استعمال کرنے کا اختیار رکھتے تھے جبکہ 2008 میں کمپنی کے دستاویز پر آصف زرداری کے بطور ڈائریکٹر دستخط موجود ہیں، پارک لین کمپنی نے قرضوں کی مد بھی بینکوں سے اربوں روپے لیے۔

ذرائع کے مطابق تفتیش کے دوران آڈیوو یڈیو ریکارڈنگ بھی کی گئی، بلاول بھٹو نے سوالوں کا جواب دینے کے بعد کہا امیدکرتاہوں آئندہ مجھےنیب نہیں بلائےگا، اس دوران آصفہ بھٹو سمیت مرکزی قیادت کو نیب آفس کے ہال میں بٹھایا گیا تھا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں